سینیٹ الیکشن کیلئے پی ڈی ایم کا لائحۂ عمل طے، حکومت کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا

تازہ ترین

تازہ ترین

سینیٹ الیکشن کیلئے پی ڈی ایم کا لائحۂ عمل طے، حکومت کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا
سینیٹ الیکشن کیلئے پی ڈی ایم کا لائحۂ عمل طے، حکومت کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا

اسلام آباد: سینیٹ الیکشن کیلئے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے لائحۂ عمل طے کر لیا ہے جبکہ الیکشن فروری میں کرانے کا حکومت کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوتا نظر نہیں آتا۔

تفصیلات کے مطابق باوثوق ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت کا سینیٹ الیکشن فروری میں کرانے کا خواب پورا نہیں ہوگا جبکہ دوسری جانب پی ڈی ایم کی جماعتوں میں سینیٹ الیکشن کے حوالے سے لائحۂ عمل طے ہو چکا ہے جو کہ وفاقی حکومت کے لیے اچھا شگون نہیں ہوگا۔ خبریں یہ بھی ہیں کہ پی ڈی ایم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ پی ڈی ایم نے اپنا پلان لانگ مارچ کے حوالے سے تبدیل کر لیا ہے۔

اتحاد کو مضبوط بنانے کے لیے پی ڈی ایم کی جماعتوں کی طرف سے تجاویز آئی تھیں جن کو ایک باضابط شکل دی جارہی ہے جن میں سے ایک تجویز پی ڈی ایم کو اتحاد کی شکل دینے کی ہے تاکہ یہ مضبوط بھی رہے اور عمران خان کے اتحادیوں کا بھی مقابلہ کرسکے، اس حوالے سے کافی چیزیں پائپ لائن میں رکھی گئی تھیں جو تمام حقیقت کا روپ دھار رہی ہیں۔

 گزشتہ روز کراچی میں پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کی صوبائی قیادت اور مسلم لیگ (ن) سندھ کی قیادت کے درمیان ایک اہم میٹنگ ہوئی جس میں پی پی پی کی قیادت نثار کھوڑو نے کی اور مسلم لیگ (ن) سندھ کی قیادت شاہ محمود شاہ نے کی۔ اس میں باقی رہنما بھی شریک ہوئے۔میٹنگ میں طے کیا گیا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی کے مقابلے میں اپنا کوئی امیدوار کھڑا نہیں کرے گی۔ 

سندھ میں جتنی بھی سیٹیں ہیں جہاں بھی پیپلزپارٹی پی ٹی آئی کا مقابلہ کرے گی تو مسلم لیگ (ن) پاکستان پیپلز پارٹی کو مکمل طور پر سپورٹ کرے گی جبکہ تھرپارکر سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں جسے واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ طے ہوا کہ  پی ایس 52 عمر کوٹ، پی ایس 53 سانگھڑ، این اے 221 تھرپارکر سمیت سندھ کی چار سیٹوں پر ن لیگ پیپلز پارٹی کی مکمل حمایت کرے گی۔

مسلم لیگ (ن) کا کوئی بھی امیدوار پی پی پی کے مقابلے میں کھڑا نہیں ہوگا۔ یہی فارمولا پنجاب کیلئے بھی اپنایا گیا ہے کیونکہ  گذشتہ ہفتے مریم نواز کی زیر صدارت جاتی امراء میں جو میٹنگ ہوئی تھی وہاں یہ طے ہوا تھا کہ مسلم لیگ (ن) سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کو سپورٹ کرے گی جبکہ پیپلز پارٹی پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کو سپورٹ کرے گی اور مسلم لیگ نون کے مقابلے میں کوئی بھی امیدوار کھڑا نہیں کرے گی۔

دونوں پارٹیز کے درمیان یہ تحریری معاہدہ بھی ہوا ہے کہ سینیٹ اتخابات میں ایک دوسرے کی مدد کی جائے گی۔پی ڈی ایم نے باضابطہ اتحاد کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اب ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم کے امیدواروں کا مقابلہ ہوگا۔ سندھ میں پی ٹی آئی اور جی ڈی اے بھی الیکشن میں جا رہے ہیں جبکہ جی ڈی اے کے بہت سارے تحفظات ہیں۔

 سندھ کے جزائرکے حوالے سے جو وفاقی پالیسی ہے اس پر جی ڈی کے تحفظات ہیں۔ پی ٹی آئی کے جی ڈی آئی کے ساتھ جو معاہدے ہوئے تھے وہ ابھی تک پورے نہیں ہوئے۔ جی ڈی اے کے ساتھ ساتھ ایم کیو ایم اور چوہدری برادران بھی پی ٹی آئی سے ناراض ہیں۔ وزیراعظم عمران خان اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ضمنی انتخابات کا مرحلہ جنوری سے لے کر 21 فروری تک مکمل ہوگا۔

تقریباً 8 صوبائی نشستیں ہیں اور ایک قومی اسمبلی کی نشست این اے 221 تھرپارکرکی ہے۔  وفاقی حکومت کی خواہش تھی کہ سینیٹ الیکشن فروری میں ہوجائیں لیکن اب ایسا نہیں ہوگا کیونکہ قومی اسمبلی کے دو حلقے این اے45 اور این اے 221 ہیں جبکہ الیکشن کے نتائج آنے ہیں، پھر نوٹیفکیشن آئے گا، الیکٹرال کالج کومکمل ہونا ہے۔ تقریباً 25 فروری تک تمام پراسیس مکمل ہو جائے گا۔

بعد ازاں الیکشن کمیشن کو سینیٹ کے الیکشن کے پراسیس میں جانا ہے۔ مارچ کے پہلے ہفتے میں سینٹ کے الیکشنز متوقع ہیں۔11 مارچ کو 52 سینیٹرز ریٹائر ہورہے ہیں۔ اس سے پہلے سینٹ کے الیکشن ہونے ہیں جبکہ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ہمیشہ سینیٹ الیکشن مارچ کے پہلے ہفتے میں ہوتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کا اختیار ہے کہ الیکشن کب کرانے ہیں اور قانون کے مطابق کرانے ہیں۔

باقی سینیٹ الیکشن شو آف ہینڈ کرانے کیلئے پیٹیشن سپریم کورٹ میں اس وقت زیر سماعت ہے جس کا فیصلہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے کرنا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جو آبزرویشنز ہیں ان سے اندازہ ہو رہا ہے کہ حکومت کے حق میں کچھ بھی آنے والا نہیں۔ شاید اب ہوا کا رخ بدل گیا ہے اسی لیے عمران خان کابینہ سے ناراض نظر آتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھیں: وزیرِ اعظم  کابینہ کی کارکردگی سے ناخوش، وزراء کو جھاڑ پلا دی

Related Posts