کراچی میں بلدیہ شرقی (ڈی ایم سی ایسٹ) کے ٹینڈرز میں گھپلے جاری ہیں جس کے دوران لاکھوں کا نقصان ہوا جبکہ یہ رقم ڈی ایم سی کی بجائے مبینہ طور پر افسران کی جیب میں چلی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق بلدیہ شرقی کے محکمہ بی اینڈ آر کے ایکسیئن نے سپرنٹنڈنٹ انجینئر ڈی ایم سی ایسٹ کی سرپرستی میں ٹھیکوں کی دوسرے روز بھی بندر بانٹ جاری رکھی ہوئی ہے۔ مبینہ طور پر ڈی ایم سی کو 32 لاکھ روپے کا نقصان پہنچا کر اپنا 9 فیصد کمیشن پکا کر لیا جبکہ 14 جنوری درخواستیں وصول کرنے کی حتمی تاریخ تک 120 درخواستیں شام 6 بجے تک جمع ہوئی تھیں۔
اپنے من پسند ٹھیکیداروں کی فوج کو ٹینڈر کھولنے کے عمل میں شامل کرنے کیلئے حیرت انگیز طور پر انتظامیہ نےٹینڈر کھلنے کی تاریخ 15 جنوری کو دن 1 بجے تک دوبارہ د رخواستیں وصول کیں جن میں صرف 2 ہزار روپے کے پے آرڈر لگے ہوئے تھے،۔مبینہ جعلی کمپنیوں سمیت مجموعی طور پر 238 درخوستیں وصول کی گئیں۔ 10 مختلف نوعیت کے ٹینڈر میں موجود کاموں میں سےمحکمے نے 5 کام روک لیے۔
باقی 5 کاموں میں مقابلے کے بجائےپرچیاں ڈال کر قرعہ اندازی کر دی گئی۔ ٹینڈر کھولنے میں اگر مقابلہ کرایا جاتا تو ڈی ایم سی کا 20 لاکھ کا کام 20 فیصد کم پرہوتا یعنی 20 لاکھ کا کام16 لاکھ میں مکمل ہوتا اور ڈی ایم سی کو ہر کام پر4 لاکھ بچت ہوتی ، اس طرح ڈی ایم سی ایسٹ کو ان مزکورہ 5 کاموں میں20 لاکھ روپے کا فائدہ ہو سکتا تھا اور اگر یہ 30 فیصد تک کم ہوتا تو مزید فائدہ ہونے کا امکان تھا۔
تاہم مبینہ طور پر اپنی جیبیں گرم کرنے کے لیے مقابلے کے بجائے پرچیاں ڈال کر جعلی قرعہ اندازی کی گئی جس سے ڈی ایم سی کو لاکھوں کا نقصان ہو رہا ہے۔ دوسری جانب ٹھیکیداروں کی ٹینڈر فیس کی مد میں جمع کی گئی رقم بھی انہیں خاموش کرانے کے لیے واپس کر دی گئی جبکہ جعلی ٹھیکیداروں کی جعلی کمپنیوں کے نام سے فیس کی جمع شدہ رقم واپس کرنےکے لیے یہ غیر قانونی دھندہ کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام ٹھیکے غیر مقامی ٹھیکیداروں کو دیے گئے ہیں جس سے سنیئر اور مقامی ٹھیکیداروں میں مایوسی پھیل رہی ہے۔ اس حوالے سے ٹھیکیداروں نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیاہے۔بعض سینئر ٹھیکیداروں کا کہنا تھا کہ نئے میونسپل کمشنر شعیب ملک کا نام استعمال کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے مقابلے کے بجائے قرعہ اندازی کر کے بندر بانٹ کی ہدایت کی تھی، تاہم ایسا نہیں ہے اور ایم سی شعیب ملک کو اندھیرے میں رکھا جا رہا ہے۔
ایم سی شعیب ملک کو اصل صورتحال سے دور رکھا جا رہا ہے ، اس حوالے سے ٹھیکیداروں نے سیکریٹری لوکل گورنمنٹ بورڈ ضمیر عباسی اور میونسپل کمشنر شعیب ملک سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر جعلی ٹھیکوں کو منسوخ کر کے ایک غیر جانبدار کمیٹی بنائی جائے جو ٹھیکوں کی انکوائری کرے اور ٹینڈر کے عمل کو دوبارہ قانونی طریقے سے شروع کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: محکمۂ مال افسران پر تشدد، 5 کے بعد بھی پولیس کچھ نہ کرسکی
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








