کراچی میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی عمارت کورونا وائرس کا گڑھ بن گئی جس میں ایس بی سی اے کے افسران سمیت 10 اہلکار کورونا کا شکار ہو کر جاں بحق ہوچکے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت کے دوہرے معیار کے باعث سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ایئر کنڈیشنڈ بند کمروں پر مشتمل عمارت کورونا وائرس پھیلانے کا سبب بن رہی ہے۔ اب تک 10 ملازمین و افسران کورونا کا شکار ہوکر جان کی بازی ہارچکے ہیں، درجنوں کورونامیں مبتلا اور سیکڑوں از خود قرنطینہ میں جا چکے ہیں۔
عالمی وباء کورونا سے پاکستان میں کراچی سب سے زیادہ متاثر ہے تاہم حکومت سندھ کے دوہرے معیارسے کورونا جراثیم پر قابو پانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ سابق وزیر اعظم ذوالفقار بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے مزار پر حاضری اور برسی منانے کیلئے عوام کو جمع کرنے کی کھلی اجازت دے دی گئی جبکہ سندھ کے اولیائے کرام کے مزارات کو سیل کر دیا گیا۔
شادی بینکوئٹس میں کرنے کی ممانعت ہے جبکہ سرکاری بڑے ادارے جو وسیع عمارتوں پر مشتمل ہیں ان کے بند کمروں میں عوام اور ملازمین کا ہجوم رہتا ہے۔ سندھ سیکرٹریٹ اس کی زندہ مثال ہے جہاں بیک وقت ہزاروں افراد جمع رہتے ہیں۔ اسی طرح سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی خود سنگین تعمیراتی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
نجی عمارتوں میں ہوا کی آمدورفت کیلئے مختص اراضی پرتعمیرات کرنے پرایس بی سی اے افسران اور اہلکار سیخ پا ہو کر ہتھوڑے مارنے پہنچ جاتے ہیں تاہم گلشن اقبال کے علاقے سوک سینٹر میں ایس بی سی اے کے مرکزی دفتر میں ہوا کی آمدورفت کے تمام ہی راستے بند کردئیے گئے ہیں۔ عمارت کے اندر ہوا کے ساتھ ساتھ روشنی بھی ناپید ہے۔ اب تک 10ملازمین جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
کورونا وائرس سے جان کی بازی ہارنے والوں میں ڈائریکٹر اعجازالحق، ڈپٹی ڈائریکٹر پرویز اختر، ایل ڈی سی لائسنس برانچ عطا محمد، گریڈ 17 کے معین الدین شریف، سابق ڈیمالیشن قلی، پیپلز یونیٹی کے جنرل سیکریٹری سردار احمد، ایل ڈی سی تنویر، ایل ڈی سی یاور، ایس بی آئی جاوید اور ایل ڈی سی ویجیلینس عبدالندیم احمد شامل ہیں۔
متاثرہ ملازمین میں منیر بھنبھرو، ڈائریکٹر ڈیزائن ندیم رشید جوکہ گزشتہ روز قرنطینہ سے باہر آئے ہیں اور منیر بھنبھرو تاحال گھر ہی میں قرنطینہ کئے ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایسے افسران اور ملازمین جن کی تعداد درجنوں میں بتائی جاتی ہے، ازخود قرنطینہ اختیار کر کے ادارے کے امور کو متاثر کر رہے ہیں۔
ضرورت اِس بات کی ہے کہ ایس بی سی اے بلڈنگ کو ہوادار بنانے کے ساتھ پورشنز مافیا سے عوام کو نجات دلائی جائے تاکہ کورونا کی بیخ کنی ممکن بنائی جاسکے جبکہ ازخود قرنطینہ کرنے والوں کیلئے میڈیکل چیکنگ کا نظام شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت سندھ اگر دوہرا معیار ختم کر کے کورونا ایس او پیز پر خود اپنے لیے بھی عمل کرے تو مسائل کم ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کورونا سے 9 کروڑ 35 لاکھ افراد متاثر، 20 لاکھ سے زائد ہلاک
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








