صنعتو ں کو گیس کی فراہمی روکنے کافیصلہ مسترد کرتے ہیں،میاں ناصر حیات مگوں

تازہ ترین

تازہ ترین

Nasser Hyatt Maggo

کراچی : صدر ایف پی سی سی آئی میاں ناصر حیات مگوں نے کہا ہے کہ یکم فروری سے عام صنعتوں کے لیے اور یکم مارچ 2021 ء سے برآمدی شعبے کو گیس کی فرا ہمی بند کر نے سے پاکستان کی معیشت، صنعتو ں اور برآمدات پر منفی اثر پڑے گا۔

فیڈریشن ہا ؤس کرا چی میں پر یس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایف پی سی سی آئی کے ہمراہ صدر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری شارق وہرہ، صدر ایمپلائز فیڈریشن آف پاکستان، اسماعیل ستار، نائب صدور ایف پی سی سی آئی اطہر سلطان چاولہ، ناصر خان، حنیف لاکھانی، خرم سعید، زبیر موتی والا، جاوید بلاوانی، جنید مکڈا، زین بشیر، آصف انعام، ہارون فاروق، اورٹڑ یڈ اور انڈسٹر ی سے متعلقہ ٹا ون ایسو سی ایشنز کے صدور بھی مو جود تھے جنہوں نے کیبنٹ کے فیصلے کو سختی سے مسترد کردیا اور وزیر اعظم سے درخواست کی کہ وہ صنعت کے فروغ اور اس میں تر قی کے مفاد پر دوبارہ غور کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ صنعت کو پہلے ہی بہت سے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا ہے خاص طور پر برآمدات کے لئے طویل مدتی آرڈروں کے حصولمیں جب پاکستان کی برآمدات میں اضافے کا ہو رہا ہے تو اس فیصلے سے غیر ملکی خریداروں کا اعتماد متاثر ہوااور بر آمدی آرڈرپورا کرنے سے متعلق پو چھ رہے ہیں اور دوسرے ممالک میں منتقل کرنے کا سوچ رہے ہیں۔

انہو ں نے مزید کہاکہ یو ٹیلیٹی کے ٹیر ف پاکستان میں دو سرے ممالک سے زائد ہیں۔ انہو ں نے مزید کہاکہCaptiveبجلی سے گرڈ کو منتقلی میں وقت لگے گا اورCostlyپلانٹ سے پیدا ہونے والی بجلی کی قیمت کم ہے بہ نسبت gridکے اس وقت ہما ری بہت سی صنعتیں قدر تی گیس پر چل رہی ہیں اور بو ائلر پر چلتے ہو ئے regenerationکر رہی ہیں اس لیے Captiveپا ور سے پو را نظا م کو تبدیل کرنا ایک مہینے میں ممکن نہیں ہے۔

میاں ناصر حیات مگوں نے مزید کہاکہ کا بینہ کی کمیٹی بر ائے توا نائی کا فیصلہ غیر پیشہ ورانہ ہے جو کہ اسٹیک ہو لڈرز، کاروباری افراد اور ٹر یڈ با ڈیز سے مشاورت کے بغیر لیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس فیصلے سے نہ صرف پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچے گا بلکہ بین الا قوامی خریداروں کے ساتھ ہمارا امیج بھی خراب ہو گا جو کہ مو جود ہ حکومت کی دو سالہ کا رکر دگی کے خلا ف سا زش دکھا ئی دیتی ہے۔ انہو ں نے مزید کہاکہ ما ضی میں IPPsمعاہدوں پر بھی تنقید کی اور کہاکہ کا بینہ کی کمیٹی بر ائے تو انا ئی کے فیصلے سے متعلق نتا ئج کے با رے میں وزیر اعظم کو مکمل طو رپر آگا ہ نہیں کیا گیا۔

اگر وزیر اعظم کو حقیقت سے متعلق آگا ہ کیا جا تا تو وہ اس فیصلے کی اجا زت نہیں دیتے۔ وزیر اعظم کا ایک کروڑ ملا زمتوں کا وژن نجی شعبے کی صنعتی تو سیع کی بنیاد پر تھا کیونکہ پبلک سیکٹر اتنا بڑی تعداد میں روز گار نہیں فراہم کر سکتا۔ اس فیصلے سے ایک کروڑ نو کریا ں فراہم کرنے، بر آمدات میں اضا فے، اور صنعتکاری کے وژن کو بھی نقصان پہنچا ئے گا۔

پر یس کا نفر نس سے خطا ب کرتے ہو شارق وہرا صدر کراچی چیمبر آف امرس اور انڈسٹر ی اور زبیر موتی والا نے حکومت کے ا س فیصلے پر احتجاج کیا اور حیر ت کا اظہار کرتے ہو ئے کہاکہ وہ کراچی میں صنعتکاری اور تر قی کے روکنے کے عمل کی اجا زت نہیں دیتے۔

انہو ں نے کہاحکومت کو ایسے فیصلے نہیں کرنے چا یہیں کہ کار خانو ں کی بند ش کی وجہ سے مزدورں میں بدامنی پیدا ہو۔

انہو ں نے مزید کہاکہ حکومتی رپو رٹ کے مطا بق 97فیصد صنعتو ں سے گیس کیrecoveryہو رہی ہے اور مسئلہ بجلی پیدا کرنے کا نہیں بلکہ اس کی تقسیم گر ڈ کے ذریعے ہے کیونکہ ما ضی میں ہم نے نما یا ں پیداواری صلا حیت میں اضا فہ کیا ہے جبکہ گذ شتہ سا لو ں میں حکومت نے گرڈ کی صلا حیتو ں میں اضا فہ نہیں کیا اور نہ ہی تقسیم، تر سیل اور لا ئن لا سز اور بجلی چوروں سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے گئے۔

مزید پڑھیں: نواز شریف پی ڈی ایم میں اختلافات کے خلاف سرگرم، آصف علی زرداری کو پیغام بھیج دیا

پر یس کا نفرنس میں یہ بھی بتا یا گیا کہ گزشتہ حکومت نے ڈالر ز میں IPPsکے ساتھ معا ہدے دستخط کیئے جب ڈالر 90رو پے کا تھا اور اب depreciationکی وجہ سے ڈالر 160روپے کا ہو چکا ہے اس سے بھی بجلی مہنگی ہو ئی ہے۔

شاہ زیب اکرم، سنیئر نا ئب صدر ایف پی سی سی آئی نے خدشہ ظاہر کیا کہ صنعتو ں کو قدرتی گیس کی معطلی سے برآمدات اور روزگار پر برا اثر پڑے گا اور تا جر بر ادری حکومت سے ان مسا ئل پر بات چیت کرنے کے لیے تیا ہے۔ حکومت ایک طر ف معا شی سر گر میوں کو فروگ دینے کے لیے تعمیراتی صنعت کو پیکیج مہیا کر تی ہے ۔

Related Posts