کرپشن کا ناسور پاکستان کے ہر شعبے میں ناسور بن چکا ہے اور کرپشن کے سبب پاکستان کو کوئی ادارہ بہتر طریقے سے اپنے فرائض کی ادائیگی کرتا دکھائی نہیں دیتا۔
پاکستان تحریک انصاف ملک میں کرپشن کے خاتمے کا عزم لیکر اقتدار میں آئی لیکن ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق گزشتہ دو سال میں مسلسل پاکستان میں کرپشن میں اضافہ ہوا ہے اور پاکستان کرپشن کے حوالے سے عالمی درجہ بندی میں مزید نیچے جارہا ہے۔
پاکستان میں کرپشن پاکستانی معاشرے میں کرپشن انتہائی حدوں تک پہنچ چکی ہے، سرکاری دفتر کا چپڑاسی ہو یا بابو ہر شخص حتیٰ المقدور کرپشن کی تگ و دو میں مصروف ہے، آج پاکستان کا کوئی ادارہ کرپشن سے پاک ہونے کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔
پاکستان میں ایک سردرد کی گولی سے لیکر جہازوں کی خریداری تک ہر جگہ کرپشن کا چرچا ہے اور قیام پاکستان سے چلنے والا یہ سلسلہ آج بھی زور شور سے جاری ہے۔
پورے ملک میں کہیں بھی کوئی بھی جائز کام رشوت کے بغیر نہیں ہوسکتا اور کوئی بھی سرکاری امور کرپشن کے بغیر چلانا ناممکن ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان 73 سال بعد بھی ترقی پذیر ممالک کی فہرست میں شامل ہے اور حالات کو دیکھ کر لگتا نہیں کہ پاکستان جلد اس برائی کی جڑ پر قابو پاسکتا ہے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ بدعنوانی پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان میں کرپشن گزشتہ برس کے مقابلے میں بڑھ گئی ہے، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے کرپشن سے متعلق عالمی رینکنگ جاری کی ہے جس میں 180 ممالک کی فہرست میں پاکستان کا 124واں نمبر آیا ہے جبکہ گزشتہ سال 2019 کی میں پاکستان کا اسکور سال 2018 کے مقابلے میں 33 سے 32 ہونے پرپاکستان کی عالمی درجہ بندی 117 سے 120 ہوگئی تھی۔
کرپشن رینکنگ میں پاکستان کی گزشتہ سال کے مقابلے میں 4 درجے تنزلی ہوئی۔ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل رپورٹ میں صومالیہ اور جنوبی سوڈان کرپٹ ترین ملک قرار دیے گئے ہیں نیوزی لینڈ اور ڈنمارک کرپشن کے خلاف 88 سکور کیساتھ پہلے نمبر رہا۔ کینڈا اور برطانیہ 77 پوائنٹس سکور کے ساتھ 11ویں ، امریکہ 67 پوائنٹس کے ساتھ 25ویں نمبر پر رہا۔ سنگاپورکا اسکور 85، برطانیہ کا 77،یو اے ای کا 71 رہا۔
حکومت کا موقف پاکستان میں میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا تھوتھو کی روایت عام ہے، یہاں الیکشن سے لیکر کوئی بھی مقابلہ ہو ہارنے والا فریق کبھی شکست تسلیم نہیں کرتا اور کہیں سے تعریف ہو تو اس پر شادیانے بجائے جاتے ہیں لیکن اگر کوئی رپورٹ بالفرض حال مخالفت میں آجائے تو اسکو مسترد کردیا جاتا ہے یہاں مخالف رپورٹ دینے والے ادارے کی ساکھ پر ہی سوال اٹھا دیا جاتا ہے۔
حکومت نے پاکستانی روایات کے عین مطابق ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو مسترد کردیا ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل 2020انڈیکس کے حوالے سے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے پاکستان میں کرپشن کے خلاف حکومتی سطح پر کی گئی کوششوں کی تعریف کی جبکہ انہوں نے کرپشن کا گراف بڑھنے کا ذمہ دار گزشتہ حکومت کو قرار دیا ہے۔
اپوزیشن سندھ میں گزشتہ 12 سال سے پیپلزپارٹی بلا شرکت غیرے اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہے اور سندھ کا کوئی ادارہ نہیں جس میں کرپشن کی داستانیں نہ چھوڑی ہوں لیکن جہاں وفاق کا معاملہ آتا ہے وہاں پیپلز پارٹی بھی تنقید کیلئے کود پڑتی ہے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر سندھ حکومت کے وزراء مرتضیٰ وہاب اور ناصر حسین شاہ اور ن لیگ کے رہنماء بھی حکومت پر تنقید کرتے دکھائی دے رہے ہیں جن کی اعلیٰ قیادت اور وزراء اور ممبران کرپشن کے کئی کئی کیسز میں پیشیاں بھگت رہے ہیں، ایسے میں یہ لگتا ہے کہ پاکستان میں کرپشن کیخلاف واقعی زیرو ٹالرنس ہے لیکن صرف دوسروں کیلئے، خود کیلئے سب اچھا ہے۔
حقائق کیا ہیں پاکستان تحریک انصاف کے کپتان عمران خان 22 سالہ جدوجہد کے بعد اقتدار تک پہنچے اور انہوں نے پی ٹی آئی کے قیام کے وقت بے لاگ احتساب کا جونعرہ لگایا اپنی منزل پانے تک پہنچنے تک اس پر قائم رہے اور حاکم بننے کے بعد انہوں نے کرپشن کے خاتمے کا پختہ عزم کیا اور آج بھی کرپشن کے حوالے سے عدم برداشت کی پالیسی پر کاربند ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اس وقت صرف ایک چیز ترقی کررہی ہے اور وہ ہے کرپشن ورنہ پاکستان کا کوئی ادارہ پی ٹی آئی حکومت کے قیام کے بعد خاطر خواہ کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرپایا تاہم صرف کرپشن کا گراف دو سال سے مسلسل اوپر جارہا ہے جو انصاف اور احتساب کی علمبردار پی ٹی آئی کیلئے بڑا سوالیہ نشان ہے۔