اسلام آباد:چیئرمن نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب نے احتساب سب کیلئے کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بدعنوانی کے خاتمے اور بدعنوان عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لئے کوششوں میں تیزی لائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اجتماعی کوششوں سے بدعنوانی کے خاتمے اور کرپشن فری پاکستان کے خواب کو یقینی بنایا جا سکتاہے۔ اپنے بیان میں چیئرمین نیب نے کہا کہ بدعنوانی تمام برائیوں کی ماں ہے جو کہ ملک ملکی ترقی اور خوشحالی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔
ملک سے بدعنوانی کے خاتمے اورکرپٹ عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کیلئے نیب نے احتساب سب کیلئے کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے اپنی کوششوں میں تیزی لائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیب کا کسی سیاسی جماعت گروپ یافرد سے کوئی تعلق نہیں، نیب افسران کو قانون کے مطابق اپنے فرائض کی ادائیگی اور کرپشن کا خاتمہ قومی فریضہ سمجھ کر ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نیب سارک کے تمام ممالک کے لئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین نے بدعنوانی کے خاتمے کے لئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اور چین سی پیک منصوبوں کے تحت پاک چین معاشی روابط میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نیب اقوام متحدہ کے انسداد بد عنوانی کنونشن کے تحت ملک کا فوکل ادارہ ہے جو پاکستان کیلئے فخر کی بات ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب نے اپنے تفتیشی افسران کو جدید خطوط پر تربیت دینے کے لئے پاکستان ٹریننگ اکیڈمی قائم کی ہے تاکہ میگا کرپشن وائٹ کالرکرائمز کے کیسز کو منطقی انجام تک پہنچایا جاسکے۔
انہوں نے کہاکہ انسداد بدعنوانی کی اس موثر حکمت عملی کی بنا پر، نیب نے 714 ارب روپے بدعنوان عناصر سے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں جو کہ پاکستان میں کام کرنے والی کسی بھی اینٹی کرپشن آرگنائزیشن کی ریکارڈ کامیابی ہے۔
انہوں نے کہاکہ نیب کی سزا کا تناسب تقریبا 68.6 فیصد ہے،ہم نے قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لئے اشتہاری مجرموں اور مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لئے تمام وسائل بروئے کار لا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیب نے پنجاب میں 56 پبلک لمیٹڈ کمپنیوں، آ ف شود کمپنیوں،جعلی اکاؤنٹس،منی لانڈرنگ،اختیارات سے تجاوز، آ مدن سے زائد اثاثہ جات،غیرقانونی ہاؤسنگ / کوآپریٹو سوسائٹیوں اور مضاربہ سکینڈل کی تحقیقات کی ہیں۔
پلی بارگین جرم کے زمرے میں آتا ہے،جس کی متعلقہ احتساب عدالتیں منظوری دیتی ہیں۔پلی بارگین کے بعد ملزم نہ صرف تحریری طور پراپنا جرم تسلیم کرتا ہے بلکہ لوٹی گئی رقم بھی قومی خزانے میں جمع کرواتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیب بزنس کمیونٹی کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، کیونکہ وہ ملک کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔نیب نے بزنس کمیونٹی کی شکایات کے ازالے کیلئے خصوصی سیل قائم کئے ہیں۔