کراچی : ملک بھر خصوصاً شہر قائد میں رمضان المبارک کی آمد سے 2 ماہ قبل ہی اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں من مانا اضافہ ہونا شروع ہو گیا، متعلقہ سرکاری ادارے، ضلعی انتظامیہ اور کمشنر کراچی بھی زبانی جمع خرچ تک محدود ہیں، بازاروں کے ساتھ وفاقی حکومت کے یوٹیلیٹی اسٹورز پر بھی اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز میں یوٹیلیٹی اسٹورز پر مذید قیمتوں میں اضافہ کیا جائے گا اور اس کے بعد رمضان کے قریب آتے ہی رمضان پیکیج کا اعلان کر کے قیمتیں معمولی کمی کر کے قوم پر احسان کیا جائے گا۔
کراچی میں برائلر مرغی کا گوشت اپنی انتہا کو پہنچ گیا ہے، کمشنر کراچی کی فہرست میں مرغی کا گوشت 214 روپے کلو تحریر ہے جبکہ دکانداروں نے قیمت میں 186 روپے من مانا اضافہ کرکے قیمت 400 روپے وصول کرنی شروع کردی ہے۔
فلور مل کا آٹا مارکیٹ میں پرچون قیمت 460 روپے فی 10 کلو تھیلا یا کھلا فروخت ہو رہا ہے، اس پر ضلعی انتظامیہ کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ ماہ رمضان سے قبل قیمتوں میں اضافے کا مقصد عوام کو یہ باور کرانا ہے کہ رمضان سے قبل ہی قیمتیں بڑھ چکی ہیں۔
صوبائی حکومتوں کو سبزی ، گوشت ، دودھ، اور پھلوں کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا ہوتا ہے، جس مین سندھ حکومت مکمل ناکام ہے یا جان بوجھ کر سندھ حکومت کے ماتحت ضلعی انتظامیہ تاجروں کی ملی بھگت سے عوام کا تیل نکال رہی ہے۔
وفاقی حکومت کو تیل ، گھی اور اجناس کی قیمتیں کنٹرول کرنے کا اختیار ہے، مگر عوام کا تیل نکالنے کی کوششیں شروع کردی گئی ہیں۔ تیل اور گھی کی قیمت میں بھی ریکارڈ اضافہ ہو چکا ہے چند ماہ قبل 230 روپے کلو ملنے والا کھلا تیل اور گھی اب 260 روپے کلو میں فروخت ہورہا ہے، برانڈڈ تیل اور گھی کی قیمت 295 روپے کلو سے 300 روپے کلو تک پہنچ گئی، برانڈڈ تیل اور گھی مہنگا ہونے کی وجہ فیڈرل ایکسائیز ڈیوٹی ہے۔
دکانداروں کا ابھی یہ حال ہے تو رمضان میں کیا ہوگا۔ خریدار 5 کلو تیل اور گھی کے پیکٹ پر 215 روپے فیڈرل ایکسائیز ڈیوٹی کا مطلب فی کلو 43 روپے کا اضافہ ہوا ہے ۔ انڈے کی قیمت کمشنر کراچی کی لسٹ میں 10 روپے فی انڈہ کے لگ بھگ تحریر ہے مگر مارکیٹ میں انڈا 15 روپے میں آزادانہ فروخت ہو رہا ہے۔
حکومت پاکستان ادارہ شماریات کے مطابق 20 کلو آٹے کا تھیلا 950 روپے سے بڑھ کر 955 روپےکا ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ رواں ہفتے دال چنا تین روپے فی کلو مہنگی ہو گئی۔