کپتان عمران خان کی قیادت میں قومی کرکٹ ٹیم نے 1992ء کا ورلڈ کپ جیتا اور آج اس بات کو 29 سال مکمل ہو گئے ہیں۔ عمران خان آج ملک کے وزیرِ اعظم ہیں۔

وزیرِ اعظم عمران خان کی قیادت میں ملک مختلف کامیابیاں اپنے نام کر رہا ہے، احساس پروگرام، اقتصادی اصلاحات اور کرپشن کے خلاف جنگ عمران خان کے اہم اقدامات سمجھے جاتے ہیں۔

سن 1992ء میں قومی کرکٹ ٹیم جب فائنل تک پہنچی تو کھلاڑیوں کا سامنا انگلینڈ کرکٹ ٹیم سے تھا جو پاکستان کے مقابلے میں اپنے آپ کو ایک مضبوط ٹیم ثابت کرچکی تھی۔

انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے خلاف پاکستان کو پہلے کھیلنے کا موقع ملا اور پاکستان نے 249 رنز بنائے۔ انگلینڈ کرکٹ ٹیم کیلئے 250 رنز کوئی بڑا ہدف نہیں تھا۔

وسیم اکرم اور مشتاق احمد نے انگلینڈ کی ٹیم کی ایک نہ چلنے دی اور پاکستانی باؤلرز ایک ایک کرکے انگلینڈ کے کھلاڑیوں کو پویلین واپس بھیجتے رہے۔

فائنل میچ میں عمران خان نے نہ صرف زبردست کپتانی کے فرائض سرانجام دئیے بلکہ سب سے عمدہ بیٹنگ بھی کی اور سب سے زیادہ72 رنز بھی بنائے۔

باؤلرز میں وسیم اکرم نمایاں رہے جنہیں پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔ مشتاق احمد اور وسیم اکرم نے مخالف ٹیم انگلینڈ کے 3، 3 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ انگلینڈ کی ٹیم 227 رنز پر آؤٹ ہوگئی تھی۔
میچ ختم ہونے کے بعد قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی سجدۂ شکر بجا لائے۔ساتھی کھلاڑیوں نے عمران خان کو کندھوں پر اٹھا لیا۔
زندگی میں پہلی بار عمران خان کو اور کرکٹ کی تاریخ میں پہلی بار پاکستان کو ورلڈ کپ سے نوازا گیا۔ کھلاڑیوں کو وطن واپسی پر پھولوں کے ہار بھی پہنائے گئے۔

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں









