اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ہمیں دنیا کی بدلتی ہوئی ترجیحات کیلئے اور چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اپنے آپ کو تیار کرنا ہوگا۔ بہت سے ترقی پذیر ممالک کی عالمی اقتصادیات، بین الاقوامی سپلائی چین اور تعلیم کے شعبے میں موجودگی انتہائی کم ہے
ان خیالات کا اظہار وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی بنگلہ دیش کی میزبانی میں 19ویں ڈی ایٹ وزارتی کونسل اجلاس میں ” بدلتی دنیا کیلئے اشتراک، یوتھ اور ٹیکنالوجی کی اہمیت ” کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ آج ہم جہاں ٹیکنالوجی کی ترقی دیکھ رہے ہیں وہاں غیرمساوی مواقعوں کی دنیا بھی ہمارے سامنے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کورونا کی عالمی وبائی صورتحال نے اس تفاوت کو مزید بڑھا دیا ہے، یہ تفاوت، نہ صرف امیر اور غریب ممالک کے درمیان فرق کو بڑھاتا ہے بلکہ نوجوان نسل کی حوصلہ شکنی کا بھی باعث بنتا ہے
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہمارے مستقبل کا دارومدار ہماری نوجوان نسل پر ہے جبکہ ہماری آبادی کا 60 فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، ہم انہیں جدید ٹیکنالوجی سے بہرہ ور بنانے کیلئے کوشاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم پاکستانی نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار کے مواقع مہیا کر کے خودمختار بنانے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کا استعمال روابط کے فروغ کا اہم ذریعہ ہے اور خوشی کی بات یہ ہے کہ ڈی ایٹ ممالک اس پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ پاکستان ڈی ایٹ فورم کو خصوصی اہمیت دیتا ہے اور پاکستان نے ڈی ایٹ فورم کے تمام فیصلوں کی توثیق بھی کرتا ہے۔
واضح رہے کہ ڈی ایٹ ورچوئل اجلاس میں مصر، پاکستان، بنگلہ دیش ، سری لنکا ، انڈونیشیا ، ملائیشیا ، نائیجیریا اور ترکی شامل ہیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میں ڈی ایٹ کی سربراہی سے سبکدوش ہونیوالے ترکی کی خدمات کو سراہتا ہوں اور ڈی ایٹ کی آیندہ سربراہی کے حوالے سے بنگلا دیش کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور ان کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔