بھارت سے ایک ناکارہ بحری جہاز ہماری سمندری حدود میں داخل ہوا جسے لنگر انداز ہونے کی اجازت کس نے دی؟ اس پر تحقیقات جاری ہیں کیونکہ جہاز پر کیمیکل مواد کی موجودگی کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ انتہائی مضرِ صحت کیمیکلز سے لدے جہاز سے ہونے والے ممکنہ نقصان کا ذمہ دار کون ہوگا؟ جبکہ جہاز کو لنگر انداز ہونے کی اجازت دے دی گئی۔ آئیے تمام تر حقائق کا جائزہ لیتے ہیں۔
جہاز کی آمد اور ادارہ برائے تحفظِ ماحولیات کا ایکشن
مذکورہ جہاز 30 اپریل کو گڈانی پہنچا جس کے پرزے علیحدہ کرنے کا عمل (شپ بریکنگ) گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں ہونے والا تھا کہ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی نے بریکنگ پر پابندی عائد کردی اور لنگر انداز ہونے کے مقام کو سیل کردیا۔
ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی نے کہا کہ ایڈیشنل ڈی سی لیہ تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی کریں گے جو 48 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کرے گی۔ جہاز لنگر انداز ہونے سے متعلق انتظامیہ اور حکومت کو کوئی اطلاع نہیں تھی۔
پاکستان کے دروازے کھلے، دیگر ممالک کے بند
ایف ایس اوریڈنٹ نامی یہ ناکارہ بحری جہاز پہلے ہی بنگلہ دیش اور بھارت میں داخل ہونے کی کوشش کرچکا ہے جسے دونوں ممالک نے داخلے سے روک دیا۔ جہاز پر پارے کے علاوہ 1 ہزار 500 ٹن دیگر کیمیکل اور خطرناک زہریلا مواد موجود ہے۔
یہ مواد آبی حیات، انسانی صحت اور ماحول کیلئے انتہائی نقصان دہ ہونے کی وجہ سے حکومت کی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ انٹر پول نے 22 اپریل کو حکومتِ پاکستان کو ای میل بھیج کر جہاز کی آمد کی اطلاع دی۔
ایف آئی اے کو بتانے کے باوجود پاکستان کے سرکاری ادارے ایکشن لینے کی بجائے آپس میں خط و کتابت میں مصروف رہے، اور ناکارہ بحری جہاز پاکستان آ پہنچا اور لنگر انداز بھی کر لیا گیا۔
قبل ازیں یہ جہاز نٹونا گیس فیلڈ، انڈونیشیا میں کام کرتا تھا جسے کام کرتے 38 سال مکمل ہوگئے۔ مئی 2020ءمیں یہ جہاز بنگلہ دیش بھیجا گیا، پھر نومبر 2020ء میں ممبئی تاہم دونوں ممالک نے شپ بریکنگ کی اجازت نہیں دی۔ بلوچستان حکومت کے مطابق بی ڈی اے نے جہاز کے مالک پر 1لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا ہے۔
کیمیکل مواد سے لاحق خطرات
انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی بلوچستان کے ڈپٹی ڈائریکٹر عمران سعید کہتے ہیں کہ محکمۂ ماحولیات اسلام آباد کے خط میں درج تھا کہ انہیں محکمۂ دفاع نے جہاز کی آمد کی اطلاع دی تھی۔
عمران سعید نے کہا کہ جب جہاز کی اطلاع ہمیں ملی تو جہاز گڈانی پر لنگر انداز ہوچکا تھا۔ جب کوئی جہاز آتا ہے تو محکمۂ ماحولیات مکمل معائنہ کرکے کیمیکل اور خطرناک اشیاء نہ ہونے کی تصدیق کرتا ہے، اس کے بعد ہی جہاز خالی کیا یا توڑا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارہ ایک خطرناک شے ہے جسے قانونی تقاضے پورے کیے بغیر پاکستان لانا غیر قانونی ہے جس پر پابندی عائد ہے۔ اگر پارہ کسی کے جسم میں چلا جائے تو اس شخص کے ہاتھ پاؤں ٹیڑھے ہوسکتے ہیں۔ خطرناک امراض بھی لاحق ہوسکتے ہیں۔
محنت کشوں کی جانیں سب سے سستی
پاکستانی میڈیا کی ایک خبر کے مطابق شپ بریکنگ یارڈ پر بحری جہاز سے مزدوروں کو خطرناک کیمیائی مواد نکالنے کے کام پر لگادیا گیا جبکہ اب تک جہاز کے مواد سے متعلق لیبارٹری رپورٹ نہیں آئی۔
کیمیکل مواد کی موجودگی کے باعث پاکستانی مزدوروں کے ہاتھوں اور چہرے پر شدید جلن اور دانے نکلنے کی شکایات سامنے آئیں جبکہ ناگوار بو کے باعث محنت کشوں کو سانس لینے میں بھی دشواری پیش آرہی ہے۔
مذکورہ محنت کش کہتے ہیں کہ ہم یہ خطرناک کام بے روزگاری کے خوف سے کر رہے ہیں۔ بحری جہاز سے پارہ ملے آئل سلیج کو نکال کر ڈرموں میں پیک کیا جارہا ہے جسے فروخت کیا جائے گا۔
میڈیا تحقیقات سے یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ جہاز کا نام بھارتی شہر ممبئی میں تبدیل کیا گیا جو پہلے کراچی اور پھر بلوچستان پہنچا۔ بلوچستان حکومت واقعے پر تفتیش کر رہی ہے۔