پیپلزپارٹی نے لازمی شادی کے بل کی مخالفت کرکے نوجوانوں کے ارمانوں پر اوس ڈال دی

تازہ ترین

تازہ ترین

Sindh Cabinet approves appointment of Murtaza Wahab as Administrator Karachi

 کراچی : سندھ حکومت نے جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی عبدالرشید کی جانب سے تمام بالغوں کی اٹھارہ سال ہوتے ہی شادی کروانے سے متعلق قرارداد کی مخالفت کردی۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کے ذریعے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ 18 سال سے زائد عمر کے بچوں کی شادی سے متعلق جمع کروائی گئی قرارداد سے سندھ حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے،پاکستان پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی اس طرح کی قرارداد کو مسترد کردیں گے۔

 

واضح رہے کہ رکن سندھ اسمبلی سید عبدالرشید نے سندھ میں18 سال کے نوجوانوں کی لازمی شادی کرانے کے بل کامسودہ اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرایاتھا۔بل 2صفحات پرمشتمل ہے جسے سندھ لازمی شادی ایکٹ 2021 کا نام دیا گیا ہے ، بل میں نوجوانوں کی شادی نہ کروانے والے والدین پر 500روپے جرمانہ عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

مسودہ قانون میں کہا گیا ہے کہ سندھ حکومت یقینی بنائے کہ والدین اپنے عاقل بچوں کی لازمی شادی کرائیں، اگر والدین تاخیرکرتے ہیں تو ڈپٹی کمشنرکوتحریری طورپرآگاہ کرناہوگا۔ایم پی اے ایم ایم اے سید عبدالرشید کا کہنا ہے کہ معاشرے کی فلاح کیلئے قانون تجویزکیاہے۔

رکن سندھ اسمبلی و امیر جماعت اسلامی جنوبی کراچی سید عبدالرشید نے 18 سال کی عمر کے بعد شادی نہ کرنے پر والدین جواب دہ ہونگے قانون سازی کے لیے اسمبلی میں بل جمع کروادیا۔

بل کے حوالے سے سید عبدالرشید کا کہنا ہے کہ معاشرے میں بڑھتی بے راہ روی کو روکنے کا واحد حل عین اسلامی قوانین کے مطابق شادی کا ہوجانا ہے، والدین اپنے بچوں کی وقت پر شادی کو یقینی بنائیں،18 سال کے بعد بچوں کی شادی میں تاخیر نہ کی جائے،حکومت اس حوالے سے والدین کے ساتھ تعاون کرے۔

مزید پڑھیں: 18 سال کے نوجوانوں کی شادی نہ کروانے پر والدین پر جرمانہ عائد کرنیکی سفارش

جماعت اسلامی کی جانب سے لازمی شادی کا بل سندھ اسمبلی میں پیش کئے جانے کے بعد نوجوانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی جبکہ پیپلزپارٹی کی مخالفت کے بعد نوجوانوں کے ارمانوں پر اوس پڑگئی ہے۔

Related Posts