حکومت پاکستان نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری شروع کردی ہے،پاکستان میں وفاقی بجٹ ہر سال جون میں پارلیمنٹ میں پیش کیا جاتا ہے،بجٹ وہ مالی منصوبہ بندی ہے جسے حکومت ٹیکس کی مد میں حاصل رقوم اور حکومتی اخراجات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک سال کے لیے مرتب کرتی ہے۔
بجٹ کے بنیادی عناصر محصولات اور حکومتی اخراجات ہیں اور انہی دونوں کے اعداد و شمار کو مد نظررکھ کربجٹ ترتیب دیا جاتا ہے لہٰذا بے حد ضروری ہے کہ محصولات اور اخراجات کے درست اعداد و شمار دستیاب ہوں۔
بجٹ کی اقسام بجٹ کی تین اقسام ہوتی ہیں، متوازن بجٹ، خسارے کا بجٹ اور سرپلس ،وہ بجٹ جس میں حکومتی آمدنی اور اخراجات برابر ہوں کو متوازن بجٹ کہا جاتا ہے۔ دوسری قسم میں جب حکومت اپنی آمدنی سے اپنے اخراجات مکمل نا کر سکے اور حکومت کو اپنے معاملات چلانے کے لیے قرض لینا پڑے کو خسارے کا بجٹ کہا جاتا ہے اور بجٹ کی تیسری قسم سرپلس بجٹ کی ہے اس میں جب حکومتی آمدنی اس کے اخراجات سے زیادہ ہو جائے تو اس بجٹ کو سرپلس بجٹ کہا جاتا ہے۔
سال 2020-21کابجٹ پاکستان میں رواں مالی سال کے بجٹ پر طاہرانہ نظرڈالی جائے تو وفاقی حکومت نے مالی سال 21-2020 کے بجٹ میں ٹیکسوں کا ہدف 4963 ارب روپے رکھا جبکہ ٹیکس اکٹھا کرنے کا ہدف 25 فیصد زائد رکھا گیا اور25 فیصد اضافی ٹیکس اکٹھا کرنے کا ہدف ایسے وقت میں مقرر کیا گیا جب ملکی معیشت کورونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والی معاشی سست روی کی وجہ سے بری طرح متاثر تھی۔پاکستان میں صرف موجودہ حکومت نے ٹیکسوں کی وصولی کا ہدف غیر حقیقی نہیں رکھا بلکہ ماضی میں بھی ایسے ہی اہداف رکھے گئے جو سال کے اختتام پر ادھورے رہے۔
معاشی حالات ادارہ شماریات کے سروے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں 38 فیصد گھرانوں کے معاشی حالات پہلے سے بد تر ہوگئے ہیں ، سماجی و معیارات زندگی سے متعلق سروے رپورٹ کے مطابق 46 فیصد گھرانوں کے معاشی حالات پہلے جیسے ہیں ، صرف 2 فیصد گھرانوں نے معاشی حالات پہلے سے بہتر قرار دیئے، گھریلو معاشی حالات کو بد تر قرار دینے والوں کی تعداد سندھ میں سب سے زیادہ 29 فیصد ہے۔ادارہ شماریات کے سماجی و معیارات زندگی سے متعلق سروے میں 12فیصد گھرانوں نے گھریلو معاشی حالات پہلے سے بہت زیادہ بد تر قرار دیئے، 26فیصد گھرانوں کے مطابق گھریلو معاشی حالات پہلے سے بد تر ہیں۔
سال 22-2021 آئندہ ماہ جون میں تحریک انصاف کی حکومت اپنا تیسرا بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال کیلئے 94 کھرب 35 ارب روپے کا بجٹ پیش کرنے کا امکان ہے، دفاعی بجٹ کو بھی بڑھا کر 15 کھرب 36 ارب روپے کیے جانے کی امید ہے ، حکومت نے نئے مالی سال میں جی ڈی پی کا ہدف 2اعشاریہ 3 فیصد اور تعمیراتی شعبے میں ترقی کو فروغ دینا اور عام آدمی کی بھلائی ترجیحات میں شامل ہیں۔عوام کی زندگیوں کا معیاربہتر بنانے کیلئے ترقیاتی پروگرام وضع کیا جائے گا جبکہ بجٹ میں تمام محکموں کو فعال کرنے اور جدید راہ پر ڈالنے کی بھی سفارشات پیش کیں جائیں گی۔
آئندہ بجٹ کے اہم نکات 1۔ آئندہ سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کیا جائے گا ۔ 2۔برآمدی شعبہ کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہو گی۔ 3۔ کاروباری برادری کی شراکت داری سے ملک کی شرح نمو میں اضافہ کیا جائے گا۔ 4۔آئندہ بجٹ میں سبسڈیز حقیقی کھپت پر دی جائیں گی اور اس حوالے سے ٹارگٹڈ حکمت عملی اپنائی جائے گی۔ 5۔برآمدی شعبہ کی شرح ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہو گی اور اسی تناظر میں مراعات کا فیصلہ کیا جائے گا ۔ 6۔ٹیکسوں میں آسانی اور اشیاء خوردونوش پر عائد سیلز ٹیکس کم کرنے کی سفارشات پیش کی گئی ہیں۔ 7۔بجلی کی قیمتوں میں اضافہ فی الوقت موخر کردیا گیا ہے۔ 8۔آئی ایم ایف کی باقی شرائط پر عمل درآمد کیا جائیگا۔ 9۔گردشی قرضہ بڑھنے نہیں دیا جائیگا۔ 10۔ مجموعی قومی پیداوار میں اضافے کیلئے اقدامات کئے جائینگے۔