بیجنگ: چین نے جی سیون کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دن گنے جاچکے جب جی – 7 جیسے چھوٹے گروپ دنیا کا فیصلہ کرتے تھے۔ ماضی میں دنیا کے فیصلے چھوٹے چھوٹے ممالک کا ایک گروہ کرتا تھا مگر اب ایسا نہیں ہوگا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین نے دنیا کی سات بڑی معیشتوں کے گروپ جی-7 کے ممالک کے سربراہان کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا ہمیشہ سے یقین رہا ہے کہ تمام ملک چاہے وہ چھوٹے ہیں یا بڑے، کمزور ہوں یا طاقتور، امیر ہوں یا غریب، تمام معاملات کو سب کی مشاورت سے چلایا جانا چاہیے۔
یہ اہم بیان برطانیہ میں قائم چینی سفارتخانے کے ترجمان کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں دنیا کے فیصلے چھوٹے چھوٹے ممالک کا ایک گروہ کرتا تھا لیکن وہ دن اب گزر چکے ہیں۔
چینی سفارتخانے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کا مزید کہنا تھا کہ چھوٹے ممالک کے وضع کردہ نام نہاد اصول نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے اصولوں پر مبنی بین الاقوامی آرڈر واحد جائز عالمی نظام ہے۔
چین نے روڈ اینڈ بیلٹ منصوبے کا متبادل لانے کی جی-سیون کے منصوبے کو ناممکن، جبری مقشقت کے الزام کو جھوٹا اور سنگیانگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو بہتان قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا پر چھوٹے گروپ کی حکمرانی نہیں چلتی ہے۔
واضح رہے کہ جی-7 ممالک کے سربراہان کا اجلاس لندن میں ہوا جہاں چینی صدر شی جن پنگ کے اربوں ڈالر کے روڈ اینڈ بیلٹ منصوبے کا مقابلہ کرنے کے لیے گلوبل انفراسٹریکچر اسکیم پر اتفاق کیا گیا ہے۔