اسٹیٹ بینک نے اسلامی بینکاری کا استحکام بڑھانے کے لیے ہدایت جاری کردیں

تازہ ترین

تازہ ترین

اسٹیٹ بینک نے اسلامی بینکاری کا استحکام بڑھانے کے لیے ہدایت جاری کردیں
اسٹیٹ بینک نے اسلامی بینکاری کا استحکام بڑھانے کے لیے ہدایت جاری کردیں

کراچی:بینک دولت پاکستان نے شریعت کی عدم تعمیل کے خطرے (ایس این سی آر)کے انتظام کے حوالے سے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں، جن کا مقصد اسلامی بینکاری کے استحکام اور مضبوطی کو بڑھانا ہے۔

اسلامی بینکاری کی بنیاد تمام کاروباری سرگرمیوں اور آپریشنز میں شرعی اصول و قواعد کی تعمیل پر استوار ہے۔ اسلامی بینکاری اداروں کو درپیش شریعہ نان کمپلائنس رسک ایک منفرد قسم کا خطرہ ہے جس کا انتظام فعال انداز میں کیا جانا چاہیے۔

اثاثوں اور ڈپازٹس، متنوع کاروباری سرگرمیوں، مصنوعات اور خدمات کے لحاظ سے اس صنعت کے بڑھتے ہوئے حجم کے باعث شریعہ نان کمپلائنس رسک کا مرتکز انتظام اب ایک ضرورت بن چکا ہے۔

مزید برآں، یکساں روایات اختیار کیے جانے سے وقت گذرنے کے ساتھ اور تمام اسلامی بینکاری اداروں میں استحکام برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔

اسٹیٹ بینک کی جاری کردہ ہدایات اسلامی بینکاری اداروں کی سینئر مینجمنٹ اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کو اس بات کا پابند بناتی ہیں کہ وہ اپنے کاروباری حجم اور پیچیدگی کے مطابق انتظامِ خطر کے مجموعی فریم ورک کے حصے کے طور پر شریعہ نان کمپلائنس رسک کی منظوری اور اس کا نفاذ یقینی بنائیں۔

اسٹیٹ بینک کے شرعی اصولوں اور فیصلوں کے حوالے سے ہدایات کو بروئے کار لاتے ہوئے شریعہ نان کمپلائنس رسک کا انتظامی فریم ورک تشکیل دیا جائے گا۔

جبکہ اس کے ساتھ متعلقہ اسلامی بینکاری ادارے کے شریعہ بورڈ کے فتاوی اور فیصلوں کو اہم حوالہ نکات (reference points) سمجھا جائے۔ اس سے مختلف مصنوعات، خدمات اور کاروباری سرگرمیوں میں خطرات اور کنٹرولز کی نشاندہی میں مدد ملے گی۔

اسٹیٹ بینک کی ہدایات کے مطابق اسلامی بینکاری اداروں کو یہ بات یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کرنا چاہیئں کہ ان کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے متعلقہ ارکان اور سینئر مینجمنٹ شریعت کی عدم تعمیل کی مطلوبہ معلومات اور سمجھ بوجھ رکھتے ہوں۔

اسٹیٹ بینک کی ہدایات اسلامی بینکاری اداروں کو رپورٹنگ کا ایک معقول طریقہ کار اپنانے کا پابند بناتی ہیں، جس میں بورڈ آف ڈائریکٹرز یا اس کی ذیلی کمیٹیوں کو ایس این سی آر واقعات کی رپورٹنگ کی حد اور فریکوینسی شامل ہوں۔

اسلامی بینکاری اداروں کے لیے ضروری ہو گا کہ وہ شریعت کی عدم تعمیل کے خطرے کے واقعات یا لین دین کا باقاعدہ ریکارڈ رکھیں اور اسٹیٹ بینک کو سہ ماہی بنیادوں پر ہونے والے نقصانات کی تفصیلات سے آگاہ کریں۔

حالیہ ہدایات کے اجرا کے ساتھ شرعی نظم و نسق کے موجودہ جامع فریم ورک سے اسلامی بینکاری کے لیے اسٹیٹ بینک کے حال ہی میں جاری کردہ تیسرے تزویراتی منصوبے کے اہداف کوحاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

Related Posts