پاکستان افغان کارڈکھیل کرایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ، قرضوں سے آزادہوسکتا ہے۔ماہرین

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان افغان کارڈکھیل کرایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ، قرضوں سے آزادہوسکتا ہے۔ماہرین
ایف اے ٹی ایف، پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے سے متعلق فیصلے کا اعلان آج ہوگا

اسلام آباد: ماہرینِ عسکری و امورِ خارجہ امور کا کہنا ہے کہ پاکستان سفارتی آداب کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے افغان کارڈ کھیل کر نہ صرف ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے باہر نکل سکتا ہے بلکہ قرضوں سے بھی آزادی حاصل کرسکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیرِ خارجہ سردار آصف احمد علی، معروف تجزیہ نگار عبداللہ گل اور حسن عسکری کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وباء کے دوران پاکستان کے پاس یہ سنہری موقع ہے کہ اپنے قرضے معاف کرا لے جبکہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی اپنی پالیسیاں دوغلی ہیں۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے پاکستان کو 27 شرائط دی گئی تھیں جن میں سے 26 پر عمل ہوچکا ہے۔ پھر بھی گرے لسٹ سے نکلنے کا معاملہ کچھ آگے جاسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف پاکستان کو مسلسل گرے لسٹ میں رکھ کر دباؤ میں رکھنا چاہتا ہے۔

عسکری و خارجہ امور کے ماہرین نے کہا کہ گرے لسٹ سے نکلنے کا معاملہ رواں برس ہونے کی توقع تو کی جارہی ہے لیکن یہ معاملہ کچھ آگے جاسکتا ہے۔ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو جولائی تک کی مہلت دی تھی۔ قانون سازی تو بجٹ پیش کیے جانے کے بعد ہی ممکن ہے اور بجٹ پر بحث ابھی ختم نہیں ہوئی۔

واضح رہے کہ بجٹ پر بحث کیلئے قومی اسمبلی کے 3 سیشن ضائع ہوچکے ہیں جس کے بعد ہی حکومت ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے قانون سازی پر توجہ دے سکتی ہے۔ عبداللہ گل کا کہنا ہے کہ امریکا افغانستان کے معاملے پر پاکستان کو دباؤ میں رکھنا چاہتا ہے، اس لیے پاکستان کو فی الحال گرے لسٹ میں رکھا جائے گا۔

عبداللہ گل نے کہا کہ اگر ہم افغان کارڈ احتیاط کے ساتھ کھیل گئے تو قرضے ری شیڈول کرانے کے ساتھ ساتھ معاف بھی کراسکتے ہیں۔ حسن عسکری نے کہا کہ گرے لسٹ میں رکھنے کا اقدام اسی لیے اٹھایا گیا کہ پاکستان پر پریشر رکھا جائے، جو حقیقت ہے۔ آئندہ بھی دباؤ ڈالنے کیلئے گرے لسٹ میں رکھا جاسکتا ہے۔

حسن عسکری نے کہا کہ امریکا چاہتا ہے کہ پاکستان انہیں اڈے دے دے، اور اسی پریشر برقرار رکھتے ہوئے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالا نہیں جائے گا۔ سابق وزیرِ خارجہ سردار آصف احمد علی نے کہا کہ اخلاقی طور پر ایف اے ٹی ایف کو پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دینا چاہئے تھا کیونکہ 27 میں سے 26 شرائط پر عمل ہوچکا ہے۔

سابق وزیرِ خارجہ نے کہا کہ عالمی قوتوں کے اپنے مفادات ہوتے ہیں جنہیں مدِ نظر رکھتے ہوئے ہی پاکستان کو مسلسل گرے لسٹ میں رکھا جارہا ہے تاہم قانون سازی بجٹ کے بعد ہوگی اور پھر ایف اے ٹی ایف کی 27 ویں شرط بھی پوری ہونے کی توقع ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان کارڈ کھیل کر گرے لسٹ سے جلد نکلنا ممکن ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایف اے ٹی ایف کے 26 نکات پر پیشرفت، پاکستان گرے لسٹ نکلنے کیلئے پرامید

Related Posts