بطور مسلمان ہم علم حاصل کرنے کو بے حد اہمیت دیتے ہیں۔ وسعتِ نظر یا کشادہ ذہنی ہمیں دوسروں کا تجزیہ کرکے، ان کی باتوں کو برداشت کرکے اور مختلف نظریات کو قبول کرکے سیکھنے کی ترغیب دیتی ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر سے وسیع ذہنی کا مطلب یہ ہے کہ ہم دوسروں کے نقطۂ نظر کو سمجھیں، اسے برداشت اور قبول کریں اور مختلف النوع حالات کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہیں۔ ہمیں یہ ذہنی قابلیت پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ عجیب و غریب حالات اور مافوق الفطرت مسائل کا بھی سامنا کرنے کیلئے تیار رہیں جو بعض اوقات ہمیں اصل معاملہ سمجھنے سے دور رکھتے ہیں۔
ہم وسیع النظر بننے میں مشکلات اس لیے محسوس کرتے ہیں کیونکہ ہم اپنی جہالت سے لاعلم ہوتے ہیں۔ مسلمان ہونے کے ناطے ہم علم کو اہمیت دیتے ہیں لیکن ہم جہالت کے متعلق برا بھی محسوس کرتے ہیں۔ جہالت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کوئی شخص کسی بات کو جانتا نہیں اور سمجھتا یہ ہے کہ اسے علم ہے۔ اس طرح ایک بڑا ڈر پیدا ہوجاتا ہے کہ ہم مکمل طور پر اس بات کے قائل ہوجاتے ہیں کہ جو کچھ بھی ہم جانتے ہیں، بس وہی سچ ہے اور ہم دوسروں کی اہم آراء نظر انداز کرنے لگتے ہیں۔
تمام عظیم ائمہ کرام جن میں امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ اجمعین شامل ہیں، انہوں نے یہ عقیدہ بیان کیا کہ جو کچھ ہم جانتے ہیں یا جس کا یقین رکھتے ہیں، ہم اسے بے حد احتیاط کے ساتھ علم حاصل کرنے کے بعد اس پر ایمان لاتے ہیں، لیکن اگر آپ کا تجزیہ درست ہو تو ہم غلط بھی ہوسکتے ہیں۔ یہ وسعتِ نظری کا سب سے اہم نکتہ ہے جو ہمیں رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کا مطالعہ کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔
ہمارے پیارے نبی ﷺ کا معاملہ عوام الناس کے ساتھ رہا اور آپ ﷺ نے امت سے فرمایا کہ جب تم لوگوں سے گفتگو کرو تو اس طرح کرو کہ وہ سمجھ سکیں۔ (صحیح بخاری، حدیث نمبر 127)۔ یہ بات اہم ہے کہ ہم جن لوگوں تک علم پہنچانا چاہتے ہیں، انہیں اپنی بات نہ سمجھا کر ان میں تنگ نظری پیدا نہ کردیں۔
ایک روز ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے دعا کرنے کیلئے معاونت کی درخواست کی، لیکن اس کا گفتگو کا طریقہ اتنا واضح نہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ اور دیگرصحابہ سمجھ سکتے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے کیا چاہتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس شخص سے پوچھا کہ تم اللہ سے کیاکہنا چاہتے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ میں اللہ سے جنتکا سوال کرتا ہوں اور جہنم سے پناہ چاہتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے بتایا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا میں انہی باتوں کا سوال کیا گیا ہے۔
اس سے جو سبق ہمیں ملتا ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وہی الفاظ استعمال نہ کرنے پر جو آپ ﷺ خود استعمال فرما رہے تھے، اس شخص کو نہیں جھڑکا۔ دعا کیلئے ایسا نہ کرکے رسول اللہ ﷺ نے ہمیں یہ سمجھایا کہ ہم ایک ہی صراطِ مستقیم پر رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے گفت و شنید اور دعا کیلئے الگ الگ طریقہ کار اپنا سکتے ہیں۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ اسلام میں وسعتِ قلبی کا مطلب یہ نہیں کہ جواسلام میں ضروری ہے، اسے جب چاہے چھوڑ دیا جائے۔مثال کے طور پر ہم فرض نمازیں ادا نہ کرکے یہ دعویٰ نہیں کرسکتے کہ یہ وسعتِ نظری ہے۔ مزید یہ کہ وسعتِ ذہنی ہمیں اسلام کے منع کیے گئے افعال یعنی برائیوں کی طرف راغب ہونے کی آزادی بھی فراہم نہیں کرتی۔
وسعتِ ذہنی کا مطلب اسلام کے نزدیک یہ ہے کہ آپ قرآن کے احکامات کو رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کریں۔ قرآن کو سمجھنے کا سب سے عظیم طریقہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگیوں کا مطالعہ ہے اور مسلمانوں کی ابتدائی نسلوں نے ہمارے ایمان کیلئے سنہرے معیارات قائم کردئیے جن پر آج تک ہم عمل پیرا ہیں۔
مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ رسول اللہ ﷺ کے اقوال و افعال اور اللہ تعالیٰ کے فرمودات سچے ہیں اور ہمیں منکرات سے بھی بچنا ہوگا۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے ہمارے لیے ایک ضابطۂ اخلاق وضع کرتے ہوئے فرمایا کہ حلال اور حرام (تم پر) واضح ہوچکا ہے اور ان (دونوں کے) درمیان کے معاملات شک پیدا کرتے ہیں۔ (جامع ترمذی، حدیث نمبر 1205)۔ ایک اوسط ذہن کا مسلمان کبھی کبھی واضح اور مشکوک افعال میں تمیز نہیں کرسکتا، اس لیے اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ پاک میں نصیحت فرماتا ہے کہ جو کچھ تم نہیں جانتے، اس کے متعلق کتاب (یعنی قرآن) کا علم رکھنے والوں سے پوچھو۔ (سورۃ النحل، آیت نمبر 43)۔
علاوہ ازیں ہمیں یہ بات بھی ذہن میں رکھنا ہوگی کہ وحئ الٰہی انسانی منطق سے بالاتر اور مکمل ہے۔ اس لیے وسعتِ ذہنی کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں وحی کو صحیح معنوں میں سمجھنا ہوگا اور اسے اپنے اعمال پر نافذ کرتے ہوئے اپنے افعال اور خیالات میں بھی اللہ کے فرمودات سے روگردانی سے بچنا ہوگا۔