خوشاب :سرگودھا کی انسداد دہشت گردی عدالت نے نیشنل بینک منیجر خاور رشید قتل کیس میں ملزم گارڈ احمد نواز سوھاکومجموعی طور2بارسزائےموت،12سال قید11لاکھ50ہزار روپے جرمانہ کی سزاء سنادی۔
گارڈ نےتوہین رسالت کا جھوٹا الزام لگا کر 4نومبر2020کو خاور رشید کو قتل کیا تھا اور بعد میں نعرے لگاتا ہوا باہر آگیا تھا، سارا معاملہ سی سی ٹی وی میں کھل گیا تھا۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال نومبر میں خوشاب کی تحصیل قائد آباد میں نیشنل بینک آف پاکستان کے برانچ منیجر ملک عمران حنیف کو گارڈ نے گولی ماری تھی ،شدید زخمی ہونے کی وجہ سے، انہیں لاہور لے جایا گیا جہاں وہ سروسز اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔
خوشاب ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ریٹائرڈ کیپٹن طارق ولایت کے مطابق قتل کے پیچھے کیا مقاصد ہیں اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، لیکن اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ واقعے کے بعد گرفتار ہونے والے سیکورٹی گارڈ نے توہین رسالتؐ کے الزام میں حنیف کے قتل کا دعویٰ کیا ہے۔
ڈی پی او ولایت کے مطابق پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سیکورٹی گارڈ اور منیجر کے درمیان کچھ عرصے سے تعلقات کشیدہ تھے۔
مبینہ طور پر کچھ ماہ قبل گارڈ کو برطرف کردیا گیا تھا۔ بعد میں اس گارڈ کو دوبارہ بھرتی کرلیا گیا تھا اور کچھ دن قبل مقتول سے اس کی بحث ہوئی تھی۔
پولیس ذرائع نے گارڈ کے اس دعوے پر بھی شبہ ظاہر کیا کہ اس نے توہین رسالتؐ کے الزام میں منیجر کو مارا ہے۔ پولیس کے مطابق ہوسکتا ہے کہ گارڈ نے ذاتی رنجش کے سبب یہ قتل کیا ہے۔
قتل ہونے والے منیجر کے ماموں کے مطابق سیکورٹی گارڈ نے ذاتی مسئلے کی وجہ سے حنیف کو گولی ماری۔
انہوں نے ملزم کے اس دعوے کی تردید کی کہ حنیف نے کوئی توہین آمیز گفتگو کی تھی، یہ کہتے ہوئے کہ وہ احمدی نہیں مسلمان ہیں۔