سسرال والوں نے بیٹی کو قتل کرکے خودکشی کا رنگ دے دیا، والدین کا انصاف کا مطالبہ

تازہ ترین

تازہ ترین

سسرال والوں نے بیٹی کو قتل کرکے خودکشی کا رنگ دے دیا، والدین کا انصاف کا مطالبہ
سسرال والوں نے بیٹی کو قتل کرکے خودکشی کا رنگ دے دیا، والدین کا انصاف کا مطالبہ

اسلام آباد:ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے والدین اپنی مقتولہ بیٹی راحیلہ بی بی کے قتل کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔سسرال والوں نے بیٹی کو قتل کرکے خودکشی کا رنگ دے دیا۔

ایم ایم نیوز سے بات کرتے ہوئے والدین آبدیدہ ہوگئے۔ تفتیشی افسر نے میڈیکل رپورٹ کو بھی نظر انداز کردیا، میڈیکل رپورٹ کے مطابق مقتولہ کو سسرالیوں نے قتل کیا۔

مقتولہ راحیلہ بی بی کے والدین نے بتایا کہ ہم نے پانچ ماہ قبل اپنی بیٹی کی شادی ریاست نامی شخص سے کی تھی،شادی کے بعد شروع دن سے ہی ساس اور باقی گھر والوں نے ہماری بیٹی پر ظلم و ستم کرنا شروع کر دیا۔

مقتولہ راحیلہ بی بی کے والدین کے مطابق ظالم سسرال والوں نے ہماری بیٹی کو بہیمانہ تشدد کر کے قتل کر دیا،پوسٹ مارٹم بھی ہمارے آنے سے پہلے کرالیاگیا ہماری بیٹی شروع دن سے اپنے تمام کام دائیں ہاتھ سے کرتی تھی لیکن گولی بائیں ہاتھ سے چلائی گئی۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ میں واضح طور پر لکھا ہے کہ مقتولہ راحیلہ بی بی کو قتل کیا گیا ہے ہماری بیٹی کسی صورت میں خودکشی نہیں کر سکتی، میری بیٹی کے سسرالیوں نے پولیس کو بھاری رشوت دے کر کہ کیس کا رخ موڑ دیا۔

پہلی رپورٹ میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ خودکشی نہیں راحیلہ کو قتل کیا گیا ہے جبکہ اس کیس کے تفتیشی نے دوبارہ ملی بھگت کر کے ایک اور مقامی ہسپتال سے پوسٹ مارٹم کرایا،رپورٹ میں لکھوایا گیا کہ مقتولہ نے خود کشی کی ہے۔

جب راحیلہ بی بی کو غسل دیا جا رہا تھا تو ہمارے گھر کی عورتوں نے دیکھا کہ راحیلہ بی بی کے ایک بازو اور ہاتھ پر تشدد کے نشانات تھے،اس کے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ میں ذکر تک نہیں کیا گیا۔

پوسٹ مارٹم کرنے والی لیڈی ڈاکٹر کو بھی نذرانہ پیش کیا گیا،جس نے ملزمان کی پشت پناہی کی،ہماری بیٹی تین ماہ کی حاملہ تھیں، کیس کے انویسٹی گیشن آفیسر نے قانون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جو رپورٹ مرتب کی اس میں ملزمان کو مکمل طور پر فائدہ دیا گیا۔

مقتولہ راحیلہ بی بی کے والدین کے مطابق مقتولہ کے ساتھ ناانصافی کی گئی،ملزمان کے ساتھ پولیس مل چکی ہے،ہماری کہیں بھی سنوائی نہیں ہو رہی،ہم گزشتہ تین چار دن سے آئی جی۔ ڈی آئی جی۔ایس ایس پی آپریشنز پختونخوا کے دفاتر کے چکر لگا رہے ہیں،لیکن ابھی تک ملزمان آزاد گھوم رہے ہیں۔

ہم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے کیس کی انکوائری کسی ایماندار آفیسر سے کرائی جائے اور اس کیس میں شامل ملزمان سمیت پولیس والوں کو بھی نشانہ عبرت بنایا جائے،جنہوں نے قتل کر کے خودکشی کا رنگ دیا۔

Related Posts