لاہور کے گلوکار و موسیقار سالار شمس پر جنسی ہراسگی کا الزام عائد کیا گیا ہے جبکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنے پیغام میں انہوں نے تمام الزامات کو سختی سے مسترد کردیا۔
تفصیلات کے مطابق بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی سے گریجویشن تک تعلیم یافتہ لاہور کے سالار شمس کا تعلق موسیقی کے شعبے سے ہے جو گیت لکھتے، پروڈیوس کرتے اور اس کی ویڈیو بنانے کے ساتھ ساتھ اپنا ایک الگ کاروبار بھی کرتے ہیں۔
ساؤنڈ کلاؤڈ پر سالار شمس کو پاکستان میں اے تیرے بن نامی گیت سے شہرت ملی۔ شمس کاری کے عنوان کے تحت سالار شمس اردو گانے مغربی موسیقی کی طرز پر تخلیق کرتے ہیں جن پر جنسی ہراسگی کا الزام حال ہی میں عائد کیا گیا۔
پاکستان کی دیوارِ شرمندگی (وال آف شیم، پی کے) نامی پلیٹ فارم نے اپنے سوشل میڈیا پیج کے ذریعے سالار شمس پر مختلف الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ گلوکار نہ صرف خواتین کو جنسی طورپر ہراساں کرتے ہیں بلکہ انہیں دھمکاتے بھی ہیں۔
وال آف شیم کا دعویٰ ہے کہ سالار شمس اپنے اثر رسوخ رکھنے والے بھائی کا حوالہ دے کر اپنی طاقت کے بل بوتے پر خواتین کو دھمکیاں دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے سالار شمس کی ایک کمسن لڑکی سمیت 3متاثرین سے گفتگو کی ریکارڈنگز بھی شیئر کی گئیں۔
دوسری جانب تمام تر الزامات کو جھٹلاتے ہوئے سالار شمس کا کہنا ہے کہ تمام تر اسکرین شاٹس جعلی ہیں۔ وال آف شیم نے جو الزامات لگائے ہیں، ان کے باعث صدمے میں آچکا ہوں۔ نہ میں نے کبھی ایسے جرائم کیے اور نہ کبھی آئندہ کروں گا۔
https://twitter.com/salarshamas/status/1419385196990844931
اپنے بھائی کے متعلق الزامات کا جواب دیتے ہوئے سالار شمس نے کہا کہ یہ بے بنیاد الزام ہے، میں اور میرے بھائی سارا دن دوستوں کے ساتھ تھے۔ کوئی بھی متاثرہ خاتون کے گھر نہیں گیا کیونکہ ان کا کوئی وجود نہیں۔ میں وال آف شیم کو عدالت میں گھسیٹوں گا۔
https://twitter.com/salarshamas/status/1419405770391703554
یہ بھی پڑھیں: عدنان صدیقی کورونا وائرس میں مبتلا ہو گئے، مزاحیہ انداز میں خبر کا انکشاف
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








