افغانستان کی صورتحال سے پاکستان پر بہت پریشر آئے گا، وزیر اعظم عمران خان

تازہ ترین

تازہ ترین

وزیراعظم نے وزراء کو ٹی ایل پی سے متعلق بیانات دینے سے روک دیا
وزیراعظم نے وزراء کو ٹی ایل پی سے متعلق بیانات دینے سے روک دیا

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اس بات کے خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ افغانستان کی صورتحال سے پاکستان پر بہت بڑا پریشر آئے گا، وزیر اعظم نے کہا کہ ہم دباؤ میں آنے کے بجائے عوام کی بہتری کے لیے فیصلے کریں گے۔

یہ بات وزیراعظم عمران خان اپنے زیر صدارت حکومتی رہنماؤں کے ایک اہم اجلاس سے خطاب میں کہی۔ اُنہوں نے کہا کہ لیڈرشپ کا تقاضا ہے کہ دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔ مشکل فیصلے کرنے پھر ان پر کھڑا ہونا ہوتا ہے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہم میں اور اپوزیشن میں نظریے کا فرق ہے، ہم نظریے پر کھڑے رہے تو کبھی ناکام نہیں ہونگے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں حکومت کی تین سالہ کارکردگی رپورٹ پر تجاویز طلب کی گئیں۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کورونا وباء کے دوران ہم نے مشکل فیصلے کیے، جن کے بہتر نتائج سامنے آئے۔ انسان کوشش کرکے تو ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک نظریے کی بنیاد پر سیاست کا آغاز کیا۔ آج تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی جماعت بن چکی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت 40 لاکھ افراد کو غربت سے نکالنے کا کامیاب پاکستان منصوبہ لانچ کرنے جا رہی ہے۔اجلاس کے دوران 18 اگست کو حکومت کی تین سالہ کارکردگی رپورٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت اجلاس میں لوگوں کو کامیاب پاکستان منصوبے کی آگاہی دینے کے لیے مہم چلانے کا فیصلہ بھی کیا گیا، اس موقع پر زراعت کے شعبے میں اصلاحات پر ترجمانوں کو بریفنگ دی گئی۔

دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے کو وزیراعظم نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں امریکا افغانستان میں بُرے طریقے سے پھنس چکا ہے، امریکا نے پہلے تنازع کو فوجی انداز میں حل کرنے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: جنسی زیادتی سے متعلق میرے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔وزیراعظم

اُنہوں نے کہا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں، افغان تاریخ کا ادارک رکھنے والے بھی کہتے رہے یہ کوئی حل نہیں، جب میں نے کہا افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں تو مجھے طالبان خان کہا گیا، میں نہیں جانتا افغان جنگ کا کیا مقصد تھا۔

Related Posts