کابل: طالبان نے “افغانستان اسلامی امارت” کے قیام کا اعلان کر دیا۔ ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ افغانستان تمام ممالک کے ساتھ اچھے سفارتی اور تجارتی تعلقات قائم کرنا چاہتی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے افغان طالبان کے ترجمان ذبیع اللہ مجاہد نے لکھا ہے کہ ” افغانستان میں صورت حال بدلی رہی ہے۔ افغانستان اسلامی امارت کے قیام کا اعلان کردیا گیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ “یہ اعلان افغانستان کی برطانوی راج سے آزادی کے 102 سال مکمل ہونے پر کیا جارہا ہے۔”
ذبیح اللہ مجاہد نے ایک اور ٹویٹ پر لکھا کہ ان کی حکومت تمام ممالک کے ساتھ اچھے سفارتی اور تجارتی تعلقات چاہتی ہے، اس حوالے سے مخالفین کی افواہوں کی تردید کرتے ہیں۔
له انګریزي ښکیلاک نه د هیواد د خپلواکي د یوسل او دویمې کلیزې په مناسبت د افغانستان إسلامي امارت اعلامیهhttps://t.co/HfZUIHnCJp pic.twitter.com/jQViMYERpW
— Zabihullah (..ذبـــــیح الله م ) (@Zabehulah_M33) August 19, 2021
ٹوئٹر پیغام کے مطابق “کابل میں طالبان وفد نے خلیل الرحمان حقانی کی قیادت میں عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کی ہے، ملاقات میں شہریوں کی سیکیورٹی، ملکی اتحاد، حکومت سازی پر بات چیت ہوئی۔”
دوسری جانب عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ خود مختار اور متحد افغانستان کے خواہشمند ہیں جہاں انصاف کا بول بالا ہو۔ خلیل الرحمان حقانی نے کہا کہ وہ کابل کے شہریوں کے لیے سکیورٹی کا پورا انتظام کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ سیاسی رہنماؤں کی مدد اور حمایت چاہتے ہیں تاکہ ملک بھر کے عوام کو تحفظ دیا جا سکے۔
افغان طالبان کا کہنا ہے کہ کابل ائیرپورٹ پر اتوار سے اب تک 12 افراد ہلاک ہوئے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق ہوائی اڈے کی طرف جانے والوں کو مشکلات کا سامنا ہے، بالخصوص ان افغان شہریوں کو ائیر پورٹ جانے سے روکا جا رہا ہے، جن کے پاس سفری دستاویزات نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : مینار پاکستان واقعہ حکومت کے لیے ٹیسٹ کیس ہے، وزیراعلیٰ پنجاب
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








