کابل: افغانستان میں طالبان کے عبوری وزیرِ اعظم ملا محمد حسن اخوند اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں جبکہ عبوری وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی کی گرفتاری پر امریکا نے لاکھوں ڈالر انعام دینے کا وعدہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز طالبان کی عبوری کابینہ کا اعلان ہوا جس میں ملا محمد حسن اخوند عبوری وزیر اعظم بنے جن پر اقوامِ متحدہ نے پابندیاں لگانے کا اعلان کیا تھا جبکہ طالبان کے شریک بانی ملا عبدالحنی برادر کو نائب وزیر اعظم مقرر کیا گیا۔
سراج الدین حقانی عبوری وزیرِ داخلہ بن گئے، جن کو گرفتار کرکے امریکا کے حوالے کرے پر لاکھوں ڈالرز انعام مقرر کیا گیا ہے۔ ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ملا عمر کے صاحبزادے اور ملٹری آپریشن کے سربراہ ملا یعقوب مجاہد عبوری وزیر دفاع ہوں گے۔
قاری فصیح الدین کو افغانستان کا آرمی چیف مقرر کردیا گیا۔ مولوی نور جلال کو نائب وزیرِ داخلہ بنایا گیا۔ مولوی امیر خان متقی عبوری وزیرِ خارجہ بن گئے ہیں۔
رواں برس 15 اگست کے روز طالبان نے کابل پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد عبوری حکومت کے قیام کا اعلان کیا جس کا وعدہ گزشتہ روز پورا کیا گیا۔ امریکا 30 اگست کی شب آخری فوجی کو بھی وطن واپس لے گیا۔ طالبان نے مخالفین کیلئے عام معافی کا اعلان کیا ہے۔
خیال رہے کہ اِس سے قبل طالبان نے افغانستان کے معاملات میں پاکستان کی مداخلت کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمارے معاملات میں کبھی مداخلت نہیں کی۔
ترجمان افغان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ہمارے معاملات میں پاکستان سمیت کسی ملک نے مداخلت نہیں کی ہے جبکہ پاکستان کی مداخلت پر 20 سال سے پروپیگنڈہ جاری ہے۔
مزید پڑھیں: طالبان نے افغانستان کے معاملات میں پاکستان کی مداخلت کی تردید کردی
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








