این آئی سی وی ڈی میں پرائیویٹ پریکٹس کی اجازت کیسے دی گئی؟ ،سندھ ہائیکورٹ

تازہ ترین

تازہ ترین

SHC seeks record of govt funding to NICVD

کراچی:سندھ ہائیکورٹ نے این آئی سی وی ڈی میں مبینہ اربوں کی کرپشن سے متعلق انتظامیہ کیخلاف درخواست پر این آئی سی وی ڈی اور دیگر اسپتالوں کو بجٹ موازنے کے ساتھ طلب کرلیاہے،عدالت نے ہدایت کی ہے کہ تمام ڈسٹرکٹ اسپتالوں کا بھی بجٹ پیش کیا جائے۔

پیرکوسندھ ہائی کورٹ میںجسٹس صلاح الدین پہنوراورجسٹس عدنان الکریم میمن پر مشتمل بینچ نے این آئی سی وی ڈی میں مبینہ اربوں کی کرپشن سے متعلق انتظامیہ کیخلاف برطرف ڈاکٹر طارق شیخ کی درخواست پر سماعت کی۔

عدالت نے استفسار کیا اسپتال میں پرائیویٹ پریکٹس کی اجازت کیسے دے دی گئی؟ وکیل ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایان میمن نے موقف دیا کہ سندھ حکومت نے ایکٹ کے تحت اجازت دی ہے۔ پرائیویٹ پریکٹس کی آمدنی کا 70 فیصد اسپتال، 30 فیصد ڈاکٹر کو جاتا ہے۔

جسٹس صلاح الدین پنہور نے استفسار کیا کہ حیدر اعوان کون ہے؟ وکیل این آئی سی وی ڈی رضا ربانی نے موقف دیتے ہوئے کہا کہ حیدر اعوان سابق ملازم ہے کنٹریکٹ ختم ہوچکا ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ دوسرے اسپتالوں میں پرائیویٹ پریکٹس کی اجازت کیوں نہیں؟ رضا ربانی نے موقف دیا کہ اسپتال کو اسٹیٹ آف ری آرٹ اسپتال بنانا مقصد ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے تو دوسرے اسپتالوں کا کیا قصور ہے؟ دوسرے اسپتالوں کو مثالی کیوں نہیں بناتے؟ رضا ربانی ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ اسپتال اٹھارہویں ترمیم کے بعد سندھ حکومت کو ملا ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ یعنی سندھ حکومت سرکاری اسپتالوں کو بہتر بنانے کی بجائے اسے پرائیویٹ بنانے پر توجہ دے رہی ہے؟ رضا ربانی ایڈووکیٹ نے موقف دیتے ہوئے کہا کہ اسپتال ٹرسٹ کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ مارشل لاء کے بعد وفاقی حکومت نے انتظام لے لیا۔

وکیل ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ایان میمن نے موقف اپنایاکہ اسپتال کو گورننگ باڈی چلاتی ہے جس کے سربراہ وزیر اعلیٰ ہیں۔ اسپتال ایکٹ کے تحت کام کرتا ہے سارا فنڈ حکومت دیتی ہے۔ سندھ اسمبلی نے ایکٹ منظور کیا اور اسپتال میں پرائیویٹ پریکٹس کی اجازت دی۔ جسٹس صلاح الدین پنہور نے استفسار کیا کہ پرائیویٹ ٹریٹمنٹ کے کیا چارجز ہیں؟ وکیل صفائی نے موقف دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرز پر انحصار کرتا ہے،زیادہ سے زیادہ فیس 4000ہے۔

مزید پڑھیں:سندھ حکومت کا عمر شریف کے لیے ایئرایمبولینس سے متعلق وفاق کے نام خط

عدالت نے ریمارکس دیئے ڈاکٹرز کی کم از کم اور زیادہ سے زیادہ تنخواہوں کی تفصیلات پیش کریں۔ ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ندیم قمر نے بتایا کہ اسسٹنٹ پروفیسر اور پروفیسرز کی تنخواہیں 5 لاکھ سے 8 لاکھ روپے ہے۔ عدالت نے استفسار کیا آپ کی تنخواہ کتنی ہے ؟ پرائیویٹ پریکٹس آپ بھی کرتے ہیں؟ ندیم قمر نے بتایاکہ میری تنخواہ پروفیسر کے مساوی ہے اور نجی پریکٹس بھی کرتا ہوں۔

درخواست گزار کے وکیل نعیم ملک نے موقف دیا کہ آپ کو صرف بیسک سیلری بتائی جارہی ہے۔ ان کی مراعات کے ساتھ آمدنی 60 لاکھ روپے سے زیادہ ہے۔ عداکت نے ریمارکس دیئے کہ آپ لوگ اتنی رقم میں الگ ادارے بناسکتے تھے ، پرائیویٹ پریکٹس کی اجازت کیوں ہے؟ رضا ربانی ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ زمینی حقائق کا بھی جائزہ لینا چاہئے۔

جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس میں کہا کہ کیا انڈس اسپتال زمینی حقیقت نہیں؟ آپ اچھے ڈاکٹر کو 20 لاکھ دے دیں کیوں نہیں دیتے؟ کہاں انڈس کہاں سول اسپتال؟ عدالت نے رضا ربانی سے مکالمہ آپ قانون دان بھی ہیں قانون ساز بھی آپ بتائیں یہ کیسا قانون بنایا ہے۔ کیا سرکاری اسپتال میں نجی پریکٹس کی اجازت دی جاسکتی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل ملک نعیم نے موقف دیا کہ پچھلے 5 سال میں سندھ حکومت نے 40 ارب روپے اسپتال کو دیئے ہیں۔ وکیل ایگزیکٹیو نے موقف دیا کہ یہ رقم صرف آلات اور تنخواہوں کیلئے دی گئی ہے۔ ندیم قمر نے بتایا ہمارے پاس سرجریز کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ کیا آپ سول اسپتال سے موازنہ کریں گے؟ جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دیئے سول اسپتال کا بجٹ دیکھیں اور اپنا دیکھیں۔

ڈسٹرکٹ اسپتالوں کا حال دیکھیں جا کر۔ اگر آپ نے فائیواسٹار اسپتال بنایا ہے تو ہمیں نہیں چاہئے آپ تمام مریضوں کو علاج کی سہولت دیں۔ چھوٹے علاقوں میں جاکر دیکھیں کیا حال ہے۔ ایسا تو نہیں ہے کچھ لوگوں کو سہولیات دینے کیلئے سارا انتظام کیا گیا ہو؟ بتائیں ڈسٹرکٹ اسپتالوں کا کیا بجٹ ہے اور این آئی سی وی ڈی کا بجٹ؟ عدالت نے این آئی سی وی ڈی اور دیگر اسپتالوں کو بجٹ موازنے کے ساتھ طلب کرلیا۔ عدالت نے ہدایت کی تمام ڈسٹرکٹ اسپتالوں کا بھی بجٹ پیش کیا جائے۔ عدالت نے سیکرٹری فنانس اور سیکرٹری خزانہ کو پیش ہونے کا حکم دیدیا۔

Related Posts