کراچی:پیر کے روزبینک دولت پاکستان کی جانب سے آئندہ دو ماہ کیلئے شرح سود میں 25بیسس پوائنٹس سے شرح سود 7فیصد سے بڑھ کر7.25فیصد ہوجانے،مہنگائی میں اضافے کے خدشات،در آمدات میں اضافے اور جاری کھاتے کے بڑھتے ہوئے خسارے کو ملکی معیشت کیلئے تشویشناک قرار دیئے جانے کے بعد منگل کو پاکستان اسٹاک مارکیٹ کا بھٹہ بیٹھ گیا۔
کے ایس ای100انڈیکس500پوائنٹس کم ہو گیا جس کی وجہ سے انڈیکس 46500پوائنٹس سے گھٹ کر 46000ہزار کی پست سطح پر آگیا،مندی کے سبب مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے96ارب روپے سے زائد ڈوب گئے جس سے سرمائے کا مجموعی حجم 80کھرب روپے سے گھٹ کر 79کھرب روپے رہ گیا۔
پاکستان اسٹاک مارکیٹ پر اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کے اثرات مرتب ہونے سے مندی کے بادل چھائے رہے اور کے ایس ای100انڈیکس 46500،46400،46300،46200اور46100پوائنٹس کی 5بالائی حد سے نیچے گر گیا۔
پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں پیر کو کے ایس ای100انڈیکس میں 519.36پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی جس سے انڈیکس46528.21پوائنٹس سے کم ہو کر46008.85پوائنٹس ہو گیا اسی طرح 243.05پوائنٹس کمی سے کے ایس ای30انڈیکس18421.96پوائنٹس سے کم ہو کر14178.91پوائنٹس پر بند ہوا۔
جبکہ کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 31860.27پوائنٹس سے گھٹ کر31490.64پوائنٹس پرآگیا۔کاروباری مندی کی وجہ سے مارکیٹ کے سرمائے میں 96ارب17کروڑ17لاکھ74ہزار44روپے کی کمی واقع ہوئی۔
جس سے مارکیٹ کا مجموعی سرمایہ80کھرب93ارب39کروڑ44لاکھ49ہزار629روپے سے گھٹ کر79کھرب97ارب 22کروڑ26لاکھ75ہزار585روپے رہ گیا۔
پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں منگل کو12ارب روپے مالیت کے 32کروڑ58لاکھ82ہزار حصص کے سودے ہوئے جبکہ پیر کو 8ارب روپے مالیت کے19کروڑ47لاکھ20ہزار حصص کے سودے ہوئے تھے۔