کراچی : پاکستان کی بزنس کمیونٹی نے تاجکستان کاحالیہ دورہ کرنے والے وفد میں شامل تجارتی مندوبین نے بزنس فورم کے موقع پرشاعری کرنے والے انڈس یونیورسٹی کے چانسلر خالدامین کی وفد میں شمولیت کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جبکہ متعلقہ حکام نے خالدامین کو وفد میں شامل کرنے کے حوالے سے چھان بین شروع کردی ہے۔
پاکستان تاجکستان بزنس فورم میں پاکستانی تجارتی وفد میں شامل ایک رکن ،انڈس یونیورسٹی کے چانسلر اور ایف پی سی سی آئی کے صدر ناصر حیات مگوں کے ماموں خالدامین کی جانب سے موقع محل کو نظر انداز کرتے ہوئے کی جانے والی شاعری پر بزنس کمیونٹی کی جانب سے بھی شدید تنقید کی جارہی ہے۔
کاروباری برادری کا خیال ہے کہ افغانستان اور خطے کی بدلتی صورتحال اور پاکستان کے لیے پیدا ہونے والے نئے چیلنجز اور امکانات کے پیش نظراس طرح کے انتہائی اہمیت کے حامل فورم پرمنفی خیالات بے وقوفی کے سوا کچھ نہیں جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔
وزیراعظم عمران خان کے ساتھ دورہ تاجکستان وفد میں پھلوں اور سبزیوں کی ایکسپورٹ سیکٹر کی نمائندگی کرنے والے ایف پی سی سی آئی کے سابق نائب صدر اور پی ایف وی اے کے سرپرست اعلیٰ وحیداحمدنے خالدامین کی بے سروپا اور بے محل شاعری پر اپنے ایک ٹوئٹ میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وفد میں شامل مندوبین اورمیزبان بھی خالد امین کی ایسی شاعری پر حیران تھے جس کا کوئی سر پیر بھی نہ تھا اورنہ ہی وہ ملک کے سربراہ کے شایان شان تھی اور جب خالدامین کی شاعری حد سے بھی آگے بڑھ گئی تووزیراعظم عمران خان نے مداخلت کرکے بات چیت کو معاشی اورتجارتی روابط کی جانب موڑ دیا جس کے بعد وقتی طور پر یہ بے چینی ختم ہوگئی اوربزنس فورم بھرپور طریقے سے آگے بڑھا۔
تاجکستان میں ایک پاکستانی بزنس مین نے عمران خان کو شاعری کے ذریعے کڑوی بات کہنے کی کوشش کی تو عمران خان غصہ کر گئے۔
اور ظلم کرو عوام پر ، مہنگائی بے قابو ۔ pic.twitter.com/s7fLl5uHFh— Top Viral Tv Pk (@TopViralTvPk) September 16, 2021
وحیداحمدنے کہا کہ وفد میں شامل تمام تجارتی مندوبین نے خالدامین کے اس طرز عمل کی شدید مذمت کی جس کی وجہ سے تجارتی وفد کو ندامت اٹھانا پڑی۔وفد میں شامل اراکین نے وزارت تجارت اورمتعلقہ محکموں پر زور دیا ہے کہ بیرون ممالک دوروں کیلئے وفد میں شمولیت کیلئے اہلیت اورسیاسی وابستگی کا خاص خیال رکھا جائے۔
مزید پڑھیں:انگلش ٹیم نہیں آئی تو قیامت نہیں آگئی رونا دھونا بند ہونا چاہیے، گورنر پنجاب
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








