نیویارک: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان کشمیر کے تنازعے پر بھارت کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے ”لیکن ایک سازگار ماحول بنانے کی ذمہ داری پڑوسی ملک پر ہے”۔
وزیر خارجہ نے نیویارک میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رابطہ گروپ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو 5 اگست 2019 سے شروع کیے گئے اپنے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کو واپس لینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ طالبان سے ڈیل کرنے کے لئے نیا رویہ اپنانا ہوگا، پچھلا رویہ ناکام رہا ہے، عالمی برادری طالبان کو تسلیم کرنے سے متعلق روڈ میپ تشکیل دے۔
وفاقی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی طالبان سے متعلق پالیسی حقیقت پسندی، تحمل، رابطہ، اور تنہائی سے اجتناب پر مبنی ہے۔عالمی برادری طالبان کو تسلیم کرنے سے متعلق روڈ میپ تشکیل دے۔ روڈ میپ تشکیل دینے کے بعد عالمی برادری طالبان سے براہ راست بات کرے۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان بھی بین الاقوامی برادری کی طرح، پر امن اور مستحکم افغانستان دیکھنا چاہتا ہے، طالبان کو افغانستان کی سرزمین کو کسی اور ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا ہوگا۔ دنیا کے لئے طالبان کو تسلیم کرنا آسان ہوجائے گا، عالمی برادری کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ انکے پاس اسکے علاوہ کیا آپشن موجود ہے؟ کیا حقیقت سے نظریں چرانا عالمی برادری کے لئے ممکن ہوگا؟
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان کی حکومت کو امداد دے کر طالبان کو ترغیب دی جاسکتی ہے، طالبان سے ڈیل کرنے کے لئے نیا رویہ اپنانا ہوگا، پچھلا رویہ ناکام رہا ہے، طالبان سے وسیع البنیاد حکومت کے قیام، انسانی حقوق بالخصوص خواتین کے حقوق کے احترام کی توقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) اور امریکا افغانستان کے منجمد اثاثے بحال کرے، پاکستان طالبان کے ساتھ رابطوں کی بحالی میں مثبت کردار ادا کرنے کو تیار ہے، اچھی بات یہ ہے کہ طالبان ہمسایوں اور بین الاقوامی برادری کی سن رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: جہاں چین کی سرمایہ کاری آرہی ہے اس پر سی پیک والی سکیورٹی دی جائیگی،اسد عمر
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








