اسلام آباد: وزیرِ خزانہ شوکت ترین کی زیرِ صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس ہوا جس کے دوران ملکی ضروریات کو پورا کرنے کی غرض سے 50 ہزار میٹرک ٹن چینی درآمد کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس گزشتہ روز وزیرِ خزانہ شوکت ترین کی زیرِ صدارت ہوا جس کے دوران ملک بھر میں چینی کی قلت اور مہنگائی پر قابو پانے کیلئے 3 الگ الگ ٹینڈرز کے ذریعے 50 ہزار میٹرک ٹن چینی درآمد کرنے کی اجازت دے دی گئی۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں 3 الگ الگ ٹینڈرز کی شرط اس لیے رکھی گئی تاکہ بین الاقوامی سطح پر کم قیمت چینی خریدی جاسکے۔ ای سی سی اجلاس میں سیکریٹری وزارتِ صنعت و پیداوار جواد رفیق ملک نے ملک بھر میں چینی کی دستیابی اور قلت کے متعلق شرکاء کو بریفنگ دی۔
بریفنگ کے دوران سیکریٹری وزارتِ صنعت و پیداوار جواد رفیق ملک نے بتایا کہ چینی کے اسٹرٹیجک ذخائر کی تعمیر کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ای سی سی نے ملک بھر میں چینی کی باآسان ترسیل ممکن بنانے کیلئے گزشتہ برس کی طرح اِس بار بھی کرشنگ نومبر کے آغاز پر کرنے کی ہدایت کی۔
گندم درآمد کیلئے چوتھے بین الاقوامی ٹینڈر پر دی گئی سستی ترین بولی کی منظوری بھی دی گئی جس کے تحت وزارتِ قومی خوراک کی جانب سے 1 لاکھ 20 ہزار میٹرک ٹن گندم درآمد کی جائے گی۔ ورلڈ فوڈ پروگرام سے 40 ہزار میٹرک ٹن گندم کی خریداری کیلئے سمری بھی منظور کر لی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ حکومت کا کچرا اٹھانے کا ٹیکس سوئی گیس بل کے ذریعے لینے کا فیصلہ
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








