آسام: بھارت میں مسلمانوں پر ظلم ستم ڈھائے جانے کا سلسلہ آج سے نہیں بلکہ بٹوارے کے وقت سے جاری ہے، آئے روز ظلم و ستم کی مختلف ویڈیوز منظر عام پر آتی رہتی ہیں، جبکہ اب ریاست آسام میں مسلمانوں کے گاؤں میں انسداد تجاوزات آپریشن کے دوران پولیس فائرنگ سے 2 افراد شہید اور 20 زخمی ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق آسام کے ضلع دارانگ میں گزشتہ روز پولیس نے غیر قانونی تجاوزات کے معاملے پر احتجاج کرنے والوں پر فائرنگ، بدترین لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کی، پولیس کے وحشیانہ تشدد کے باعث 2افراد اپنی جان سے ہاتھ بیٹھے۔ جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔
بات یہیں نہیں ختم ہوئی بلکہ ایک بھارتی صحافی نے بھارتی صحافت کا ننگا ناچ بھی دکھایا، واقعے کی کوریج کرنے والے سرکاری فوٹو جرنلسٹ نے پولیس فائرنگ سے شہید ہونے والے مسلمان شہری کی لاش پر چھلانگیں لگا کر انسانیت کو شرمندہ کردیا۔
معاملہ سوشل میڈیا پر اجاگر ہونے کے باعث واقعے میں ملوث شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے، تاہم ظالم پولیس کے ڈی اس پی کو ہی مزید تحقیقات کے لیے بھیجا گیا ہے جب کہ ریاستی حکومت نے واقعہ کی عدالتی تحقیقات کرانے کا حکم دے دیا ہے۔
What protocol orders firing to the chest of a lone man coming running with a stick @DGPAssamPolice @assampolice ? Who is the man in civil clothes with a camera who repeatedly jumps with bloodthirsty hate on the body of the fallen (probably dead) man? pic.twitter.com/gqt9pMbXDq
— Kavita Krishnan (@kavita_krishnan) September 23, 2021
واضح رہے کہ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ گاؤں والوں کا تجاوزات کیس ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے، اس کے باوجود بھارتی حکومت نے عدالتی فیصلے سے پہلے ہی زمین خالی کرانے کے لئے ظلم کی ایک نئی داستان رقم کردی۔
مذکورہ واقعے کے بعد بھارتی اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے بھارتی پولیس کی مسلمانوں پر درندگی کی شدید مذمت کی جارہی ہے، اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے افسوس ناک واقعے پر اپنا رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ آسام میں ریاستی دہشت گردی عروج پر ہے۔
مزید پڑھیں: نریندر مودی کی امریکا آمد، سکھ مظاہرین نے دھرنا دے دیا، آزادی کے نعرے
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








