پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کی تجویز

تازہ ترین

تازہ ترین

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کی تجویز
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کی تجویز

اسلام آباد: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یکم اکتوبر سے ایک بار پھر اضافے کی تجویز حکومت کو ارسال کر دی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق یکم اکتوبر سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان ہے۔ باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 5 روپے 25 پیسے تک اضافہ تجویز کیا ہے۔

باوثوق ذرائع کے مطابق اوگرا کی طرف سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری ارسال کردی گئی جس کے تحت پٹرول کی قیمت میں 5 روپے 25 پیسے فی لٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 50 پیسے فی لیٹر تک اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی حتمی منظوری وزیر اعظم عمران خان دیں گے۔ وزارتِ خزانہ کی مشاورت سے لیوی اور ٹیکسز میں ردوبدل کا بھی امکان ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں لیوی اور جی ایس ٹی کے تحت اضافہ ممکن ہے۔

تازہ ترین صورتحال کے مطابق پٹرول پر لیوی 5 روپے 62 پیسے فی لٹر جبکہ ڈیزل پر 5 روپے 14 پیسے فی لٹر عائد ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق وزیر اعظم عمران خان پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی تجاویز پر آج فیصلہ کریں گے۔ 

خیال رہے کہ ہر بار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے پر مہنگائی کا شور مچایا جاتا ہے کیونکہ پٹرولیم مصنوعات کا اثر تمام تر ضروریاتِ زندگی کی اشیاء کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ پی ٹی آئی دورِ حکومت کے علاوہ ماضی میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھائی گئیں۔ 

میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ یکم ستمبر 2018 کو جب پی ٹی آئی نے اقتدار سنبھالا تو پٹرول کی قیمت 92 روپے 83 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت 106 روپے 57 پیسے ریکارڈ کی گئی۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی، پی پی پی اور ن لیگ دورِ حکومت میں پٹرول کی قیمت کیا رہی؟

Related Posts