کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے جنوبی وزیرستان میں جنگی بندی کا اعلان کیا ہے۔ کالعدم ٹی ٹی پی کا کہنا ہے کہ ہم پاک فوج کے خلاف دشمنی ختم کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔
بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق کالعدم ٹی ٹی پی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہمارے رہنماؤں نے تمام جنگجوؤں سے کہا ہے کہ وہ آج سے 20 اکتوبر تک جنگ بندی پر عمل کریں۔
کالعدم ٹی ٹی پی نے کہا کہ ان کے رہنما کچھ “خفیہ بات چیت” میں مصروف ہیں، جن مزید تفصیلات بعد میں بتائی جائیں گی۔
واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے آج اپنے ایک انٹرویو میں اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ حکومت اور کالعدم ٹی ٹی پی کے کچھ گروپس کے ساتھ ہتھیار ڈالنے کے لیے مذاکرات چل رہے ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان نے اسلام آباد میں ٹی آر ٹی ورلڈ کے علی مصطفٰی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “میرے خیال میں تحریک طالبان پاکستان کے کچھ گروہ دراصل ہماری حکومت سے بات کرنا چاہتے ہیں۔”
ٹی ٹی پی کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے کیے گئے سوال پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ” کالعدم ٹی ٹی پی کے کچھ گروپس کے ساتھ ہمارے مذاکرات چل رہے ہیں۔” انہوں نے کہا اس سلسلے افغان طالبان مدد کررہےہیں اور اس لحاظ سے کہ مذاکرات افغانستان میں ہو رہے ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگر کالعدم تحریک طالبان پاکستان والے گروپس ہتھیار ڈالنے پر رضامند ہو گئے تو حکومت ان کے لیے عام معافی کا اعلان کر دے گی، اور پھر وہ عام شہری بن کر رہ سکیں گے۔
حکومت کے اس بڑے اعلان کے بعد اپوزیشن کی جانب سے سخت مزاحمت اور غم و غصہ کا اظہار کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ٹی ٹی پی سے متعلق وزیراعظم کے بیان کی مذمت کرتے ہیں، شیری رحمان
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








