کراچی: وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکمران جماعت تحریک انصاف اچھے اور برے طالبان سے واقف ہے، تاہم آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے قتل عام میں ملوث افراد کا معاملہ مختلف ہے۔
کراچی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پرامن زندگی اختیار کرنے کے لیے ہتھیار ڈالنے والوں سے لڑنا مناسب بات نہیں ہے۔
شیخ رشید کا کہنا تھ اکہ حکومت اگلے 20 سالوں کے لیے حکمت عملی ترتیب دے رہی ہے، دنیا کو منظر نامہ جلد تبدیل ہونے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی طاقت پاکستان کو نظرانداز نہیں کر سکتی ، ہم افغانستان میں ایک جامع حکومت چاہتے ہیں۔
وزیر داخلہ نے یقین دلایا کہ وہ ملک دشمنوں کے ساتھ لڑیں گے اور ملک سے دہشت گردی کی لعنت کو ہر قیمت پر ختم کریں گے۔
افغانستان کے بحران کے بارے میں بات کرتے ہوئے شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان کو بحران سے نکالنے کے لیے ہر ممکن مدد کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا نے افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا سے متعلق معاہدے پر دستخط کیے، ہم نے نہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے وزرائے خارجہ افغان صورتحال پر رابطے میں ہیں۔ امریکی صدر جو بائیڈن کے دورے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا “جو بھی ہم سے ملے گا ہم اس کا استقبال کریں گے جو نہیں آئے گا وہ اپنے گھر خوش ہم اپنے گھر راضی۔”
پٹرول کی قیمتوں کا ذکر کرتے ہوئے شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھارت اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ کرتی ہے تو تو پیٹرول کی قیمتیں گر جائیں گی۔
وزیر نے مزید کہا کہ عوام کو سستی اشیائے خرونوش اور ادویات کی فراہمی اولین ترجیح اور حکومت کا قومی فریضہ ہے۔
قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین کی تقرری کے حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اس بات کا فیصلہ اسی ہفتے ہو جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم عمران خان ملک میں افراط زر کی موجودہ سطح سے زیادہ پریشان ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا کا نیشنل ٹی ٹونٹی میں فتوحات کا سلسلہ جاری، بلوچستان کو 55 رنز سے شکست
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








