آخر کار دنیا بھر میں انتظار کی گھڑیاں ختم ہوگئیں۔ انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹیگیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) نے پینڈورا پیپرز کو ریلیز کردیا ہے۔
پینڈورا پیپرز کی تیاری میں دنیا بھر کی صحافتی تنظیموں کے تقریباً 600 نمائندوں نے حصہ لیا۔ مالیاتی اسکینڈل 11.9 ملین دستاویزات پر مشتمل ہے۔
انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹیگیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) کے تجزیاتی دستاویزات کے مطابق دنیا بھر سے تقریبا 35 موجودہ اور سابق رہنما شامل ہیں۔ جنہیں بدعنوانی سے لے کر منی لانڈرنگ اور عالمی طور پر ٹیکسز سے بچنے کے الزامات کا سامنا ہے۔
لیکس میں 700 پاکستانیوں کے نام شامل ہیں
پینڈورا پیپرز کے مطابق پاکستان کے موجودہ وزیر خزانہ شوکت ترین ، سینیٹر فیصل واوڈا ، پاکستان مسلم لیگ کے رہنما اور وفاقی وزیر آبی وسائل ، چوہدری مونس الٰہی ، اسحاق ڈار کے بیٹے ، پیپلز پارٹی کے شرجیل میمن ، وزیر صنعت و پیداوار خسرو بختیار کا خاندان ، پی ٹی آئی رہنما عبدالعلیم خان اور ایگزیکٹ کے سی ای او شعیب شیخ ، ابراج گروپ کے عارف نقوی ، معروف تاجروں ، ریٹائرڈ فوجی جرنیلوں اور ان کے خاندان کے افراد کی آف شور کمپنیاں دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہیں۔
کئی عالمی رہنماؤں کے نام پینڈورا پیپرز میں شامل ہیں۔
پینڈورا پیپرز کے مطابق کم از کم 35 عالمی رہنما ان لوگوں میں شامل ہیں جو آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں۔
پینڈورا پیپرز کے مطابق بیرون ممالک میں اردن کے بادشاہ ، یوکرین ، کینیا اور ایکواڈور کے صدور ، جمہوریہ چیک کے وزیر اعظم اور سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی آف شور کمپنیاں سامنے ہیں ۔ پنڈورا پیپرز میں روسی صدر ولادی میر پوٹن ، ہندوستان ، امریکہ ، میکسیکو اور دیگر ممالک کے 130 سے زائد ارب پتیوں کی مالی سرگرمیوں کی تفصیل درج ہیں۔
لیک ہونے والی فائلوں سے یہ بات بھی سامنے آگئی ہے کہ پڑوسی ملک لبنان میں اعلیٰ سیاسی اور مالی شخصیات نے آف شر جنتیں بنا رکھی ہیں۔
ان میں وزیر اعظم نجیب میکاتی ، ان کے پیشرو حسن دیب ، ریاض سلامہ ، لبنان کے مرکزی بینک کے گورنر – جو کہ اس وقت فرانس میں مبینہ منی لانڈرنگ کے الزام میں زیر تفتیش ہیں – اور سابق وزیر مملکت اور المورد بینک کے چیئرمین مروان خیریدین شامل ہیں۔
1997 سے 2007 تک برطانیہ کے وزیر اعظم ٹونی بلیئر 2017 میں 8.8 ملین ڈالر کی وکٹورین عمارت کے مالک بن گئے ، اس پراپرٹی کو برٹش ورجن آئی لینڈ کمپنی سے ٹونی بلیئر کی اہلیہ چیری بلیئر نے قانونی طور پر خریدی تھی۔
محفوظ ٹیکس کی جنتیں۔
آئی سی آئی جے کے مطابق ٹیکس ہیون یا غیر ملکی مالیاتی مراکز عام طور پر ایسے ممالک یا جگہوں پر ہیں جہاں کم یا کوئی کارپوریٹ ٹیکس نہیں ہوتا ہے جو بیرونی لوگوں کو آسانی سے وہاں کاروبار قائم کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔
آف شور کمپنیاں برٹش ورجن آئی لینڈ ، سیچلز سے ہانگ کانگ اور بیلیز تک محفوظ ٹیکس پناہ گاہوں میں قائم کی گئی ہیں۔
“ٹیکس پناہ گاہیں عام طور پر کمپنیوں اور ان کے مالکان کے بارے عوامی سطح پر تشہیر نہیں کرتی ہیں۔ اس وجہ سے معلومات حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ ٹیکس ہیون کو بعض اوقات رازداری کا دائرہ اختیار بھی کہا جاتا ہے۔
کسی دوسرے ملک میں غیر ملکی بینک اکاؤنٹس اور دیگر مالی معاملات ریگولیٹری نگرانی یا ٹیکس کی ذمہ داریوں سے بچنے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
ملکیت کی معلومات کو چھپانے کے لیے کمپنیاں یا افراد اکثر شیل کمپنیوں کا استعمال کرتے ہیں، جن کمپنیوں کو شامل کیا جاتا ہے ان سے اثاثوں کے متعلق چھان بین نہیں کی جاتی ہے۔
کیا آف شور کمپنی قائم کرنا غیر قانونی ہے؟
قانون کے تحت آف شور کمپنی قائم کرنا جرم نہیں ہے اگر کمپنی کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں ہے۔ تاہم جن لوگوں نے ان کمپنیوں کو اپنے گوشواروں میں اثاثے قرار نہیں دیا ہے انہیں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
پاکستانی قانون کے مطابق ایسی کمپنیوں کے مالکان ٹیکس حکام اور سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) ان کو ڈکلیئر کریں۔ جب ایک بار آپ اپنے آف شور ایسیٹ ظاہر کر دیتے ہیں تو کوئی قانونی ہچ باقی نہیں رہتی ، جب تک ان اثاثوں کی اصل مالیت حقائق کی غلط تشریح نہ کی ہو۔
عالمی منی لانڈرنگ جیسے معاملات کو دیکھنے والی تنظیم فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے مطابق آف شور کمپنیوں کو جائز بزنس اور ٹیکس سے بچنے کی منصوبہ بندی کے لیے قائم کیا جا سکتا ہے۔
تنظیم کے مندرجات کے مطابق ایسے ممالک جہاں سیاسی حالات غیرمستحکم ہیں، بدعنوانی اعلیٰ سطح پر پہنچی ہوئی ہے، بھتہ خوری جیسے اعلیٰ درجے کی مجرمانہ سرگرمیاں عروج پر ہوں، ایسے میں دولت مند لوگ مکمل رازداری سے غیرممالک میں آف شور کمپنیاں قائم کرسکتے ہیں۔
وزیراعظم عمران نے پینڈورا پیپرز کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح سیل قائم کردیا۔
وزیر اعظم عمران خان آئی سی آئی جے کے پینڈورا پیپرز کا خیرمقدم کیا ہے ۔ انہوں نے پیر کے روز ’پینڈورا پیپرز‘ کے نام سے لیک ہونے والے مالی اسکینڈل میں نامزد پاکستانیوں کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطح کمیشن تشکیل دیا ہے۔
یہ اعلان وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے کیاہے۔
وزیر اعظم کے معائنہ کمیشن کے تحت اعلیٰ سطح کا سیل پینڈورا پیپرز میں مذکور تمام افراد کی تحقیقات کرے گا اور قوم کے سامنے حقائق پیش کرے گا۔ اب ہمیں تحقیقات کا نتیجہ دیکھنا ہے اور کیا قصورواروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی یا یہ محض ماضی کی طرح تحقیقات ہی ہوں گی۔