پنڈورا پیپرز کا قصہ

تازہ ترین

تازہ ترین

آئی سی آئی جے کی جانب سے ریلیز کیے گئے پنڈورا پیپرز نے پاکستان سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں نیا پنڈورا باکس کھول دیا ہے جس میں خفیہ ڈیلز اور اثاثوں کا انکشاف کیا گیا ہے جن کی ملکیت دنیا کے امیر اور طاقتور ترین افراد کے ہاتھوں میں ہے۔ مجموعی طور پر 1 کروڑ 19 لاکھ فائلز کے ریکارڈ سے سیاستدانوں، ججز، فوجی افسران اور مجرموں کی جانب سے بنائی گئی آف شور کمپنیوں کے انکشافات سامنے آئے ہیں۔

پنڈورا لیکس میں 35 موجودہ اور سابقہ بین الاقوامی رہنماؤں کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ شوبز اور کاروبار کے شعبے سے تعلق رکھنے والی شخصیات بھی اسی میں شامل ہیں۔ بے شمار ایسی کمپنیاں ہیں جو حقیقی طور پر کوئی وجود نہیں رکھتیں اور ایسے کارکنان ہیں جو بہت مالدار اور بھاری بھرکم اثاثے رکھتے ہیں جن کے خفیہ بینک اکاؤنٹس کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ دنیا بھر کے 117 ممالک سے تعلق رکھنے والے 700 صحافیوں نے پنڈورا پیپرز کی تحقیقات کیلئے 2سال تک کام کیا اور آف شور کمپنیاں اور بھاری بھرکم بدعنوانیاں بے نقاب کرڈالیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پنڈورا پیپرز میں کچھ حیرت انگیز دھچکے موجود ہیں۔ 2020 کی او ای سی ڈی کی تحقیق بتاتی ہے کہ کم از کم 11 اعشاریہ 3 ٹریلین ڈالرز کی رقم آف شور کمپنیوں میں لگائی گئی۔ یہ واضح نہیں کہ اس میں ٹیکس چوری کتنی ہوئی یا قانونی ذرائع سے کتنی دولت آئی کیونکہ آف شور کمپنیوں کا نظام انتہائی خفیہ رکھا جاتا ہے۔ تاہم مشرقِ وسطیٰ، بھارت، روس، یورپ اور پاکستان سمیت دنیا کا کوئی کونہ ایسا نہیں جہاں سے منی لانڈرنگ نہ کی جاتی ہو۔

غور کیا جائے تو پنڈورا پیپرز کے انکشافات سے ہماری دنیا کے متوازی چلنے والی ایک اور مالیاتی دنیا موجود ہے جسے شیڈو فنانشل ورلڈ کہا جاسکتا ہے جس کے تحت آف شور معیشت نے جنم لیا جو دنیا کے امیر ترین لوگوں کو اپنی دولت چھپانے میں مدد دیتی ہے تاکہ انہیں بہت کم یا صفر ٹیکس دینا پڑے جس سے کسی بھی ملک کے قومی خزانے کو اربوں کا نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ آف شور کمپنیاں رکھنا غیر قانونی نہ سمجھا جائے تاہم یہ غیر اخلاقی ضرور ہے کیونکہ عام طور پر آف شور کمپنیاں بنانے کا مقصد ہی ٹیکس چوری ہوتا ہے۔

پاکستان سے تعلق رکھنے والی 700 شخصیات کے نام پنڈورا پیپرز میں شامل ہیں جن میں سیاستدان، کاروباری شخصیات اور سابق فوجی افسران بھی شامل ہیں جن پر منی لانڈرنگ کا الزام ہے۔ اس میں وفاقی حکومت میں شامل وزرا اور اپوزیشن رہنماؤں کے نام بھی شامل ہیں جنہوں نے آف شور کمپنیوں کو کروڑوں روپے منتقل کیے۔ وزیر اعظم عمران خان جو پہلے ہی بدعنوانی کے خلاف احتساب کا نعرہ لے کر اقتدار پر براجمان ہوئے، آج پنڈورا پیپرز میں نامزد پاکستانیوں کے خلاف تحقیقات کا آغاز کرچکے ہیں۔

بین الاقوامی برادری کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ منی لانڈرنگ جیسے عالمی مسئلے کے تدارک کیلئے اقدامات اٹھائے۔ بدقسمتی سے بڑی مچھلیوں پر نہ تو ہاتھ ڈالا جاتا ہے اور نہ ہی مختلف ممالک اپنا قومی خزانہ لٹ جانے سے کھو جانے والی رقم واپس لانے میں دلچسپی لیتے ہیں۔ یہی غربت اور عدم مساوات کی بنیادی وجہ ہے جس کے باعث ترقی پذیر ممالک سے پیسہ ترقی یافتہ ممالک کو منتقل ہوتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس صورتحال کا فوری تدارک کیا جائے، اس سے پہلے کہ لٹ جانے والے ممالک میں معاشی بد حالی اور تباہی و بربادی کا نیا طوفان جنم لے۔ 

Related Posts