اس سال جولائی کے آغاز تک کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اس ماہ کی 2 تاریخ سے امریکہ اس ذلت سے دوچار ہونا شروع ہوجائے گا جس سے بچنے کے لئے دوحہ میں مذاکرات ہوئے اور ان مذاکرات میں عائد شرائط کی مدد سے یہ بات یقینی بنانے کی کوشش ہوئی کہ امریکہ کو کسی خفت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ان مذاکرات کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ اس کے نتیجے میں ہونے والے معاہدے میں منصوبہ صرف امریکی انخلاء تک کے لئے نہ تھا۔ بلکہ انخلاء کے بعد انتقال اقتدار اور آنے والے افغان ماہ و سال کے لئے بھی پلاننگ موجود تھی۔ یوں گویا معاہدے کے ایک فریق کی حیثیت سے انخلاء کے بعد بھی امریکہ افغان عمل موجود نظر آنا تھا۔ انخلاء کے اس عمل کے دوران 2 جولائی کو خبر آئی کہ امریکہ نے بگرام ایئربیس خالی کردیا۔ یہ اقدام بھی اس حد تک سموتھ نظر آیا کہ افغان سٹوڈنٹس کی جانب سے طنز کے بجائے خیرمقدمی بیان آیا۔ بدبختی کا آغاز تب ہوا جب 6 جولائی کو افغان جنرل اسداللہ کوہستانی نے انکشاف کیا کہ دنیا کی واحد سپر طاقت نے 2 جولائی کی رات بگرام ایئر بیس کی روشنیاں بند کیں اور چپکے سے کھسک لی۔ اشرف غنی حکومت یا افغان فوج کے سربراہ تک کو آگاہ نہیں کیا گیا۔ یہ خبر پوری دنیا کے میڈیا نے ہاتھوں ہاتھ لی اور یوں شروع ہوا امریکی مٹی پلید ہونے کا وہ عمل جو تادم تحریر جاری ہے۔
امریکہ پر بیچارگی کا لمحہ آئے اور ہمارے دیسی لبرلز اس کی مدد کو حاضر نہ ہوں۔ یہ بھلا ہوسکتا ہے ؟ سوشل میڈیا کے ہر پلیٹ فارم سے مدد آئی اور جی کھول کر آئی۔ مگر اس باب میں سب سے زیادہ وہ پیش پیش تھے جو ٹویٹر اور یوٹیوب پر پائے جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں ان دنوں ہی ویب سائٹس پر ارسطوؤں کی کمی نہیں۔ اور بہ فضل خدا دستیاب بھی درجن اور تول دونوں حساب سے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے آفیسشلی ابھی کوئی موقف سامنے نہ آیا تھا مگر صرف امریکی یا مغربی ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کا میڈیا افغانستان سے امریکی انخلاء کو شکست سے ہی تعبیر کر رہا تھا۔ اس پورے کرہ ارض پر پاکستانی سوشل میڈیا وہ واحد مقام تھا جہاں پائے جانے والے دیسی ارسطو فلسفے جھاڑ جھاڑ کر یہ ثابت کرنے میں جت گئے تھے کہ امریکہ کو کوئی شکست نہیں ہوئی۔ نون لیگ کے لئے شب و روز خدمات انجام دینے کے عوض پرائڈ آف پرفارمنس پانے والے ایک موصوف تو یہاں تک کہہ گئے “یہ صرف ہم جیسے ہیں جو اس میں فتح و شکست ڈھونڈ رہے ہیں۔ ورنہ امریکہ اس لئے افغانستان سے تشریف لے جا رہا ہے کہ یہ اس کے مفاد میں ہے” موصوف کے اس ارشاد عالی میں “تشریف” کا لفظ ان کی بے پایاں وفاداری کا ثبوت ہے۔ ملکہ وکٹوریہ کا دور ہوتا تو اس خلوص کے عوض تین میں سے ایک چیز ضرور پاتے۔ یا تو سر کا خطاب پاتے، یا کچھ مربع زمین ملتی، اور یا پھر کسی درگاہ کے سجادہ نشین بنا دیئے جاتے۔ ان کی بدقسمتی کہ نصیب انہیں امریکہ کا دور ہوا ہے جو ایسے اخلاص کو بلیک لیبل شہد کی بوتل پر ٹرخانے کی روایت رکھتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








