عدالتی حکم پر شیرپاؤ ہائیڈرنٹ بند، پانی کی فراہمی کے متبادل آپشنز پر غور

تازہ ترین

تازہ ترین

Sherpao hydrant closed on court order

کراچی : سندھ ہائی کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کرتے ہوئے کراچی واٹر بورڈ نے شیرپاؤ ہائیڈرینٹ کو بند کر دیا۔

ڈسٹرکٹ ساؤتھ کے مکینوں، سرکاری و عسکری اداروں، مساجد، ہسپتالوں کو پانی کی فراہمی کے متبادل آپشنز پر غور جاری ہے۔ ایم ڈی کراچی واٹر بورڈ انجینئر اسداللہ خان نے ہائیڈرنٹ سیل کے انچارج نعمت اللہ مہر کو ضلع ساوتھ کے مکینوں کو پانی کی فراہمی کی ہدایات جاری کر دی ہیں ۔

ایم ڈی واٹر بورڈ اسداللہ خان کا کہنا ہے کہ کراچی واٹر بورڈ ہمیشہ معزز عدالتوں کے ہر فیصلے پر فوری طور پر عملدرآمد کرتا ہے اور آئندہ بھی عدالتی احکامات کی بجاآوری کرے گا ۔

کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نے سندھ ہائی کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کرتے ہوئے کل شام سے شیرپاؤ ہائیڈرینٹ کو بند کر دیا ہے۔

اس ضمن میں ایم ڈی کراچی واٹر بورڈ انجینئر اسداللہ خان کا کہنا تھا کہ کراچی واٹر بورڈ ہمیشہ معزز عدالتوں کے ہر فیصلے پر فوری طور پر عملدرآمد کرتا ہے، معزز عدالت کا جیسے ہی حکم نامہ ملا اس پر فوری طور پر عملدرآمد کر دیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈسٹرکٹ ساؤتھ کے مکینوں، سرکاری و عسکری اداروں، مساجد ، ہسپتالوں کو پانی کی فراہمی کے متبادل آپشنز پر غور جاری ہے۔

مزید پڑھیں:

عدالت نے شیرپاؤ ہائیڈرنٹ بند کرنے کا حکم دے دیا

سابق چیف سیکریٹری سندھ کی کمپنی کاعدالتی حکم کیخلاف سرکاری ہائیڈرنٹ چلانے کا انکشاف

واضح رہے کہ مذکورہ ہائیڈرنٹ کو بند کیلئے عدالت نے واٹر بورڈ کو حکم دیا تھا جس پر عمل درآمد نہ ہونے پر مدعی نے توہین عدالت کے نوٹس جاری کرائے تھے۔

عدالت نے چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز شاہ ، ایم ڈی واٹر بورڈ اور سپرنٹنڈنٹ انجینئرنعمت اللہ مہر کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کئے تھے جس کے بعد واٹر بورڈ نے کارروائی کر کے بلال عرف بنٹی کا ہائیڈرنٹ بند کر دیا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کے سنگل بنچ کے جج سید حسن اظہر رضوی نے اس ہائیڈرنٹ کی نیلامی کو روک رکھا تھا جس کے باوجود واٹر بورڈ انتظامیہ اس ہائیڈرنٹ کے بااثر مالکان سے ملی بھگت کی وجہ سے چلا رہی تھی۔

واضح رہے کہ واٹر بورڈ کی جانب سے ہائیڈرنٹ کی نیلامی میں SSS کارپوریشن کو جان بوجھ کر جعل سازی سے نیلامی کی بولی دینے کے عمل سے باہر کرا دیا تھا جس کا مقصد بلال عرف بنٹی کی AA بلڈرز اینڈ ڈیولپرز اور میسرز سفاری ٹرانسپورٹ کو ہائیڈرنٹ کا ٹھیکہ دینا مقصود تھا ۔

عدالت کی جانب سے اس جعلسازی کو روکنے اور غیر قانونی چلنے والے ہائیڈرنٹ کو منع کرنے کیخلاف واٹر بورڈ انتظامیہ کو توہین عدالت کے نوٹسز میں 8 نومبر کو عدالت طلب کر رکھا تھا جس سے قبل ہائیڈرنٹ بند کر دیا گیا ہے ۔

واٹر بورڈ ذرائع کا کہنا ہے کہ واٹر بورڈ ہائیڈرنٹ سیل نے گزشتہ کئی ماہ سے جو غیر قانونی ہائیڈرنٹ چلا کر کروڑوں روپے کا کاروبار کیا ہے اگلی سماعت میں اس پر بھی مدعی کی جانب سے عدالت کو آگاہ کیا جائے گا ۔

Related Posts