پاکستان میں معیشت بحال، مزید بہتری کا امکان ہے، گورنر اسٹیٹ بینک

تازہ ترین

تازہ ترین

SBP chief insists economy will grow by around 5% in FY2022

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر ڈاکٹر رضا باقر نے ملک کی معاشی ترقی کے امکانات کے بارے میں امید کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ مالی سال 22-2021میں معیشت کی شرح نمو 5 فیصد کے قریب رہے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال میں معیشت میں تقریباً 4 فیصد اضافہ ہوااور ہم توقع کرتے ہیں کہ یہ رواں مالی سال میں 5 فیصد کے قریب بڑھے گی۔ یہ ہمارے لیے ایک خوش آئند چیلنج ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک ایک پائیدار ترقی کے مرحلے کو یقینی بنانے کے لیے حکومت، بینکوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک، حکومت کے ساتھ شراکت داری میں بیرونی شعبے کی پائیداری پر سمجھوتہ کیے بغیر معاشی ترقی کو سپورٹ کرنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ حکومت اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ جلد ہی 6 بلین ڈالر کا قرضہ پروگرام دوبارہ شروع کرنے کے معاہدے کا اعلان کریں گے۔

باقر رضا نے کہا کہ وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ ہم بہت جلد آئی ایم ایف کے ساتھ اگلے جائزے کے لیے معاہدے کا اعلان کرنے والے ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمیں اپنی پالیسیوں کی سمت پر اعتماد ہے۔

مزید پڑھیں:

ڈالر مہنگا ہونے سے عوام کا فائدہ، گورنر اسٹیٹ بینک نئی منطق لے آئے

گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر قادیانی ہیں یا نہیں؟ نئی بحث چھڑگئی

گورنر اسٹیٹ بینک نے قومی ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کا امکان ظاہر کردیا

انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت نے گزشتہ سال آئی ایم ایف کی پیش گوئی سے کہیں زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے سربراہ نے کہا کہ ملک کی جی ڈی پی گروتھ، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ، زرمبادلہ کے ذخائر اور بیرونی قرضے آئی ایم ایف کے تخمینوں سے کہیں بہتر پوزیشن میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جون 2019 میں جب آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ پروگرام شروع کیا تو مالی سال 2021 میں ہماری شرح نمو 3 فیصد رہنے کا اندازہ لگایا تھا لیکن جون 2021 میں ختم ہونے والے مالی سال میں پاکستان کی معیشت میں تقریباً 4 فیصد اضافہ ہوا تھا۔

Related Posts