کراچی: امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کے الیکٹرک کی نااہلی اور ناقص کارکردگی پر گہری تشویش ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے مسلسل نواز نے اور کمپنی کی بدعنوانیوں و عوام سے لوٹ مار کو تحفظ دینے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کراچی کے عوام کے ساتھ ہے اور کسی صورت بھی کے الیکٹرک کے مالکان کو فرار نہیں ہونے دیا جائے گا،لندن میں عارف نقوی کے خلاف عدالتی فیصلہ کے الیکٹرک کے خلاف جماعت اسلامی کے عوامی مؤقف کی تائید ہے،ہم سپریم کورٹ آف پاکستان سے درخواست کرتے ہیں کہ کے الیکٹرک کے مالکان کو فوری گرفتار کیا جائے اور کے الیکٹرک سے قومی اداروں سوئی سدرن گیس کمپنی اوراین ٹی ڈی سی کی رقم سمیت کراچی کے صارفین کے بھی کے واجب الاداء 300 ارب روپے واپس دلوائے جائیں۔
انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم عمران خان نے عارف نقوی کی گرفتاری کے بعد ابراج گروپ کے سینئر ممبر اور کے الیکڑک کے سابق چیئرمین تابش گوہر کو اپنا معاون خصوصی مقرر کیا تاکہ کے الیکٹرک کی بد عنوانیوں پر پردہ ڈالا جاسکے اور کسی طرح معاملات کو حل کیا جاسکے، کے الیکٹرک کو شنگھائی الیکٹرک کے ہاتھوں فروخت کرکے ماکان کو ملک سے فرار کروایا جاسکے اور تابش گوہر بھی یہی کوشش کررہے ہیں کہ کسی طرح کے الیکٹرک کو قومی اداروں اور کراچی کے صارفین کی واجب الادا رقم 300 ارب روپے ادا کئے بغیر نیشنل سیکیورٹی کلیرینس سرٹیفیکٹ دلوایا جاسکے۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اور اسکی کابینہ کے وزراء کے الیکٹرک کا 15سالہ فرانزک آڈٹ کروانے اوراسکے خلاف کاروائی کرنے کے بجائے اس کے وکیل بن کر اسے تحفظ فراہم کررہے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی کراچی کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ دنوں وفاقی وزراء اسد عمر، عمر ایوب نے وزیراعظم کے معاونین خصوصی تابش گوہر، ندیم بابر کے ہمراہ چیف جسٹس سے ملاقات کرکے کے الیکٹرک اور دیگر قومی اداروں کی واجب الادا رقم کے تنازعہ کو حل کرنے کی درخواست کی جسے سپریم کورٹ نے خالص کاروباری اور انتظامی معاملات قرار دیتے معاملے کو وفاقی حکومت سے خود حل کرنے کا کہا جبکہ وفاقی حکومت نیب کی جانب سے متوقع کاروائی کے ڈر سے کے الیکٹرک کے بارے میں واضح فیصلہ نہیں کررہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے احکامات نظر انداز کرکے کے الیکٹرک کو نوازنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہو ں نے کہاکہ گزشتہ دنوں وفاقی وزراء اسد عمر، عمر ایوب اور معاون خصوصی نے صنعتی صارفین کے گیس کے کنکشن منقطع کرنے کا حکم صادر کیا ہے تاکہ وہ اپنی صنعتی ضروریات کیلئے گیس سے سستی بجلی خود پیدا کرنے کے بجائے کے الیکٹرک سے مہنگی بجلی خریدیں۔ جسے ملک کی تمام ہی صنعتی انجمنوں نے یکسر مسترد کردیا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ سردی میں بھی کے الیکٹرک نے عوام کو سکون سے نہیں رہنا دیا،طے شدہ معاہدے کے تحت بجلی کی پیداوار میں اضافہ نہیں کیا جس کے باعث شہر میں اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایم کیوایم پاکستان آزادی اظہار پرمکمل یقین رکھتی ہے، ڈاکٹرخالد مقبول صدیقی
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








