تھپڑ کیس، الیکشن کے دوران وردی والے لوگ ٹھپے لگا رہے تھے۔فردوس عاشق اعوان

تازہ ترین

تازہ ترین

فردوس عاشق اعوان
پاکستان کی سیاسی تاریخ آج نیا رخ اختیار کرنے والی ہے۔فردوس عاشق اعوان

اسلام آباد: پولیس اہلکار کو تھپڑ مارنے والی آئی پی پی رہنما فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ الیکشن کے دوران وردی والے لوگ ٹھپے لگا رہے تھے۔

تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن میں پولیس اہلکار کو تھپڑ مارنے کے کیس پر فردوس عاشق اعوان کو بھیجے گئے نوٹس پر سماعت ہوئی۔ وکیل نے کہا کہ ہمارے سپورٹر اور ووٹرز پولنگ اسٹیشن کے باہر تھے جب میں نے اسٹیشن کی گیلری کو بند ہوتے دیکھا۔

فردوس عاشق اعوان کے وکیل نے کہا کہ ایک شخص لوگوں کو آواز دے کر اندر بلانے لگا۔ ہمیں روکنے والے صاحب کا پتہ نہیں تھا کہ وہ کون ہیں، وہ سول کپڑوں میں تھے۔ فردوس عاشق اعوان نے پولیس والوں سے کہا کہ آپ لوگ کیا کر رہے ہیں؟

وکیل نے سوال کیا کہ کیا قانون سہولت کاری کی اجازت دیتا ہے؟ الیکشن کمیشن میں ممبر پنجاب نے سوال کای کہ کیا قانون آپ کو تھپڑ مارنے کی اجازت دیتا ہے؟فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ قانون اس کا حق نہیں دیتا، میں اس پر معذرت کرچکی ہوں۔

الیکشن کمیشن نے 15فروری کو فردوس عاشق اعوان کو تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کے دوران فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ میں الیکشن کمیشن کے نوٹس پر یہاں آئی۔ وردی والے افراد کیوں ٹھپے پر ٹھپے لگا رہے تھے؟

گفتگو کے دوران فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ میرے حلقے میں پولیس افسران یرغمال بن گئے۔ قانون کا تحفظ کرنے کی بجائے کسی جماعت کی سہولت کاری کیوں کی؟ غیر قانونی کام کرنے والے یونیفارم والوں کا علاج کون کرے گا؟ یہ کام عوام کو کرنا ہوگا۔ 

Related Posts