لاہور: پی ٹی آئی کے چیئرمین و سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میں نے سابق آرمی چیف جنرل (ر) باجوہ کو تاحیات توسیع دینے کی بات نہیں کی تھی۔ نواز شریف نے بھی اس سے انکار کیا۔
تفصیلات کے مطابق اپنے حالیہ انٹرویو کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ یہ جھوٹ ہے کہ میں نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو تاحیات توسیع دینے کی بات کی‘باجوہ نے مزیدایکسٹینشن کی پوری تیاری کرلی تھی مگر نواز شریف نے یہ مطالبہ مسترد کردیا، جو اچھا کام تھا۔
تحریکِ انصاف کے حامی عمران خان کی حمایت پر شرمسار ہوں گے۔سعد رفیق
انٹرویو کے دوران عمران خان نے کہا کہ بطور وزیر اعظم مجھے جنرل باجوہ کی بے وفائی سے بہت دکھ ہوا، میں ان کو شک کا فائدہ دیتا رہا، جب رات کو عدالتیں کھلیں، قیدی وین آئی تب محسوس ہوا‘ ہر انسان غلطیاں کرتا ہے‘ میں اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہوں۔
سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ میں تو سمجھتا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کا مشن چوری روکنا ہے تاہم مجھےمایوسی ہوئی، جنرل باجوہ بڑی دیر سے سازش کے تحت ہماری حکومت گرانے کا پلان بنا رہے تھے۔
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے سابق آرمی چیف پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ باجوہ نے جان بوجھ کر ہماری سیٹیں کم کرائی تھیں، وہ شہباز شریف کو عقل مند سمجھتے تھے۔ پاکستان میں اب مارشل لاء نہیں لگ سکتا کیونکہ لوگ ساتھ نہیں دیں گے۔
عمران خان نے کہا کہ اگر ہماری حکومت آئی تو شوکت ترین ہی وزیرخزانہ ہوں گے، وزیراعلیٰ پنجاب کون ہوں گے اس کا ابھی فیصلہ نہیں کیا۔ اقتدار میں آکر بیوروکریسی اور عدالتی نظام میں اصلاحات لائیں گے‘دوبارہ اقتدار میں آ کر گورنس سسٹم مضبوط کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے باجوہ کی سازشوں کا پتا چلتا رہا اور میں باجوہ کو سارا وقت شک کا فائدہ دیتا رہا، جب بھی کہتا تھا کہ سازش ہو رہی ہے تو وہ کہتے تھے سب ٹھیک ہے۔اگر پی ٹی آئی دوبارہ اقتدار میں آئی تو وہ ملک میں سرمایہ کاری لانے کے نئے طریقے تلاش کرے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








