اسلام آباد :سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی،مریم اورنگزیب ، فرحت اللہ بابر،شازیہ مری ودیگر نے کہا ہے کہ نے وفاقی حکومت کی جانب سے میڈیا سے متعلق نیا قانون لانے کی تیاریوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی مارشل لا حکومت میں بھی صحافت کو دبانے کے لیے ایسے حربے استعمال نہیں کیے گئے، صحافت کی آزادی کوئی آپشن نہیں بلکہ عوام کا آئینی حق ہے۔
اسلام آباد میں حکومت مجوزہ پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے خلاف صحافیوں کے دھرنے میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، مریم اورنگزیب ، پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر ، شازیہ مری اور نیشنل پارٹی کے طاہر بزنجو نے شرکت کی جبکہ جے یو آئی (ف) کے رہنما اور اپوزیشن جماعتوں کے کئی ارکان قومی اسمبلی بھی احتجاج میں شریک ہوئے۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کیا پیمرا کافی نہیں تھا، صحافیوں کو اٹھانا، ٹیلی فون کرنا کافی نہیں تھا کہ آج پی ایم ڈی اے کی ضرورت پڑ گئی کہ ملک میں عوام تک حق سچ کی آواز نہ پہنچنے پائے۔
انہوں نے کہا کہ جس ملک میں صحافتی آزادی نہیں ہوگی جو کہ ایک آئینی حق ہے، یہ کوئی آپشن نہیں ہے کہ ہم صحافت کو آزاد کریں یا نہ کریں بلکہ یہ ملک کے عوام کا ایک آئینی حق ہے، کہ وہ اپنی رائے کا اظہار کریں اور ان تک دوسروں کی رائے پہنچے۔
انہوں نے کہاکہ یہ بدقسمتی ہے کہ وہی لوگ جو یہاں سے چند سو میٹر پر 5 مہینے دھرنا کرتے رہے، اس کی لائیو کوریج ہوتی رہی، پی ٹی وی پر حملے کی بھی لائیو کوریج ہوتی رہی لیکن آج اسی مقام پر سیکڑوں پولیس اہلکار ڈنڈے لے کر کھڑے ہیں کہ صحافی جو احتجاج کر رہے ہیں وہ کیسے روکیں۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یہ کوئی سیاسی معاملہ نہیں ہے، ہمارا آج یہاں آنے کا مقصد یہ تھا کہ جو احتجاج صحافی کر رہے ہیں ہم اس میں برابر کے شریک ہیں، اس لیے نہیں کہ کوئی سیاسی فائدہ ملے گا بلکہ اس لیے کہ یہ پاکستان کے عوام کا حق ہے جو آج سلب کیا جارہا ہے۔
مزید پڑھیں:کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات، تحریک انصاف آگے، پیپلزپارٹی کی پوزیشن بھی مضبوط
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








