ہم جانتے ہیں کہ بظاہر معصوم سا اطلاعاتی ذریعہ نظر آنے والا میڈیا، ایک جنگی ہتھیار بھی ہے۔ اور ہتھیار بھی وہ جو بالعموم توپوں اور ٹینکوں سے بھی قبل استعمال میں لایا جاتا ہے۔ اس کے پیشگی استعمال کے ذریعے رائے عامہ کو ممکنہ جنگ کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔ کیونکہ جنگ عوامی تائید کے بغیر وہ کلہاڑا بن جاتی ہے جو اپنے ہی پیروں پر آ پڑتا ہے۔ پھر جنگ کے دوران بھی اسے مسلسل استعمال کیا جاتا ہے۔ دوران جنگ اس کے استعمال سے دو مقاصد حاصل کئے جاتے ہیں۔
ایک یہ کہ اپنی قوم کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ ہم مسلسل پیش قدمی کر رہے ہیں اور فتح ہماری ہی ہوگی۔ جبکہ ساتھ ہی حریف ملک کی رائے عامہ کے حوصلے توڑنے کے لئے بھی اسے استعمال کیا جا رہا ہوتا ہے۔ یہ کوشش اس لئے ضروری ہوتی ہے کہ حریف کی سپاہ کے مورال کا دار و مدار اپنی رائے عامہ پر ہی ہوتا ہے۔ اگر قوم کے حوصلے بلند ہوں تو وہ سپاہ کی کمر تھپک رہی ہوتی ہے، اور قوم کے ہی حوصلے ٹوٹ جائیں تو ایسی باتیں شروع کر دیتی ہے جن سے سپاہ کا مورال نیچے آنے لگتا ہے۔
معاملہ یہیں ختم نہیں ہوجاتا۔ بلکہ جنگ کے اختتام پر جب توپیں خاموش ہوجاتی ہیں تو میڈیا کا ہتھیار تب بھی مسلسل زیر استعمال ہوتا ہے۔ اگر فتح ہوئی ہو تو جشن فتح سے لے کر حریف قوم کی ناک رگڑنے تک سب کچھ میڈیا ہی کے دم پر ہو رہا ہوتا ہے۔ اور اگر شکست ہوگئی ہو تو اس صورت میں احمقانہ قسم کے دعوؤں سے ایک طرف یہ ثابت کرنے کی کوشش ہوتی ہے کہ جو نظر آرہی ہے یہ درحقیقت شکست نہیں۔
یعنی یہ کہنے کی کوشش ہو رہی ہوتی ہے کہ شکست نامی بطخ دکھ بیشک بطخ جیسی رہی ہے، چل بیشک بطح کی طرح رہی ہے، اور آواز بھی اس کی بیشک بطخ جیسی ہی ہے، مگر ہے یہ بطخ نہیں۔ یہ سارے ٹوپی ڈرامے قوم کی تسلی کے لئے ہوتے ہیں۔ مگر ساتھ ساتھ فاتح کی فتح کا مزہ کرکرہ کرنا بھی پیش نظر ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بسا اوقات وقتی طور پر یہ پروپیگنڈہ کام کر جاتا ہے مگر جلد حقائق بھی سامنے آجاتے ہیں۔ کیونکہ سچ اس کونپل کی طرح ہے جو بیج اور زمین دونوں کا سینہ چیرنے کی طاقت رکھتی ہے۔
جب میڈیا ایک ہتھیار ہے تو پھر یہ جنگی حکمت عملی کا بھی متقاضی ہے۔ ایک زمانے تک تو اس کی جنگی حکمت عملیاں وقتی رہیں۔ پیش آمادہ صورتحال میں ہی بنتیں اور استعمال ہوتیں۔ لیکن اب جسے “ففتھ جنریشن وار” کہا جاتا ہے اور جس کا خالق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن ہے، یہ ایک مستقل اور باقاعدہ حکمت عملی ہے۔ اور اس میں کلیدی کردار ہے بھی سوشل میڈیا کا۔
سو ان دنوں افغانستان کے حوالے سے یہ ففتھ جنریشن وار زوروں پر ہے۔ جو پاکستان اور اس کے دو پڑوسی ممالک کے مابین جاری ہے۔ اور الحمدللہ اب تک اس میں پاکستان کامیاب جا رہا ہے۔ بھارت اور بھارت نوازوں کی فیک نیوز کا پردہ اس کامیابی سے چاک کیا گیا ہے کہ ساری دنیا میں ان کی جگ ہنسائی ہی نہیں ہو رہی بلکہ ان کے بعض اہم میڈیا ہاؤسز کو وضاحتوں پر بھی مجبور ہونا پڑا ہے۔
اسی دوران دور بہت دور امریکہ میں بھی میڈیا نے خاموشی سے پینترا بدلا ہے۔ جس طرح سیاست میں حالات کے مطابق کبھی ہاکس تو کبھی نرم لہجے والوں کو آگے رکھا جاتا ہے۔ بعینہ میڈیا میں بھی حالات کے مطابق شکلیں اور آوازیں آگے لائی جاتی ہیں۔
جب امریکہ کو جنگ مطلوب تھی تو اس کے میڈیا پر “ماہرین” کے طور پر ان لوگوں کے ڈیرے تھے جو جنگ اور مغربی امپیریل ازم کے حامی تھے۔ ان کا ہر استدلال جنگ کے حق میں ہوتا، اور ان کا ہر دعوی یہ یقین دہانی کراتا کہ “ہم جیت رہے ہیں” کچھ اکا دکا وہ لوگ بھی وقتا فوقتا سامنے لائے جاتے جو جنگ مخالف تھےمگر توازن 80 اور 20 کا ہوتا تھا۔
80 فیصد وقت انہیں ملتا جو جنگ کے حق میں تھے اور 20 فیصد انہیں جو اس کے خلاف تھے۔ اس حرکت کے ذریعے میڈیا درحقیقت خود کو غیر جانبدار ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے، مگر لوگ اب اس کھیل کو سمجھتے ہیں۔ 15 اگست کے بعد کے کالموں یہ عرض کرچکا کہ امریکہ افغانستان کی اسپیس کبھی بھی چین اور روس کے لئے خالی نہیں چھوڑے گا۔ وہ جلد سفارتی راستے سے واپسی اختیار کرے گا اور نئی افغان حکومت کو بھی تسلیم کرے گا۔ ظاہر ہے یہ ایک بڑا یو ٹرن ہے۔
سو اس کے لئے پہلے امریکی رائے عامہ کو ہموار کرنا پڑے گا۔ صاف نظر آرہا ہے کہ اس پر کام شروع ہوچکا۔ ایک طرف وائٹ ہاؤس اور امریکی دفتر خارجہ نے مثبت اشارے دینے شروع کر دئے ہیں تو ساتھ ہی رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لئے میڈیا پر توازن بھی تبدیل کردیا گیا ہے۔ اب 80 فیصد وقت ان دانشوروں کو دیا جا رہا ہے جو جنگ مخالف اور امن کے داعی ہیں۔ جبکہ جنگ کے حامیوں کو اب 20 فیصد وقت مل رہا ہے۔ امریکی میڈیا پر نظر آنے والے ماہرین بالعموم اس کی یونیورسٹیز کے شعبہ بین الاقوامی امور کے پروفیسرز ہوتے ہیں۔
ان دنوں ایسے ماہرین امریکی میڈیا پر بکثرت نظر آرہے ہیں اور تقریبا سب ہی اپنی رائے دیتے وقت ایک جملہ ضرور استعمال کر رہے ہیں۔ اور وہ یہ کہ “نائن الیون میں افغان سٹوڈنٹس کا تو کوئی کردار نہ تھا۔ نائن الیون والے مجرم تو سارے عرب تھے، لھذا افغان سٹوڈنٹس سے جنگ تھی ہی بلاجواز اور غلط۔ ہمیں ان کے ساتھ دیرپا تعلقات قائم کرنے چاہئیں”۔
اب اگر غور کیجئے تو یہ عین وہی بات ہے جو نائن الیون کے فورا بعد افغان اسٹوڈنٹس کہہ رہے تھے کہ بھئی نائن الیون سے ہمارا کیا لینا دینا ؟ نہ ہم اس کی منصوبہ بندی میں شریک تھے، اور نہ ہی اس کی منصوبہ بندی سے آگاہ۔ لہٰذا ہمیں کس بات کی سزا دی جا رہی ہے ؟ امریکہ نے نہ صرف سٹوڈنٹس کے اس موقف کو مسترد کیا بلکہ بیس سال تک ان پر بمباری بھی کرتا رہا اور انہیں بگرام سے لے کر گوانتناموبے کے عقوبت خانوں میں ٹارچر بھی کرتا رہا۔
جب نائن الیون ہوا اور اسامہ کی حوالگی کا معاملہ پیش آیا تو افغان اسٹوڈنٹس نے کابل کے کانٹی نینٹل ہوٹل میں 800 علماء کا جرگہ بلا کر ان سے تجاویز مانگیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے ؟ اس جرگے نے تجویز پیش کی کہ اسامہ سے کہدیا جائے کہ وہ رضاکارانہ طور پر افغان سرزمین چھوڑ دے۔
ابھی اس تجویز کو قبول کرنے کا اعلان بھی نہ ہوا تھا کہ امریکہ نے فورا یہ موقف اختیار کر لیا کہ اگر اسامہ افغان سرزمین چھوڑ بھی دے تو تب بھی ہم افغانستان پر حملہ کریں گے، کیونکہ ہمیں کچھ اور شکایات بھی ہیں۔ اور پھر اس نے کیا بھی یہی۔ وہ 48 ممالک کی مدد لے کر افغانستان میں فوجی سرکشی کا مرتکب ہوگیا۔
اسے اپنے سپر طاقت ہونے کا زعم تھا سو اسے یقین تھا کہ فتح بھی اسی کی ہوگی۔ لیکن بیس سال بعد اسے کابل سے یوں نکلنا پڑا کہ سائیگون والی شرمندگی بھی ماند پڑ گئی۔ جو بات اب اس کا میڈیا اپنے جنگ مخالف ماہرین کے ذریعے مسلسل پھیلا رہا کہ اسٹوڈنٹس کا تو نائن الیون سے کوئی لینا دینا نہ تھا۔ یہی تب مان لی جاتی تو کیا اسے ڈھائی ٹریلین ڈالرز اور ہزاروں انسانی جانوں کا نقصان ہوتا ؟ اور کیا اس کے ہاتھ معصوم افغانوں کے خون سے رنگتے ؟ کیا سو جوتے اور سو پیاز کھانا اتنا ہی ضروری تھا ؟۔
اب آجاتا ہے یہ سوال کہ اس کی ممکنہ سفارتی واپسی کو کس نظر سے دیکھنا چاہئے ؟ کیا اسے خوش آمدید کہنا چاہئے یا اس کی ناک رگڑنی چاہئے؟ تو جواب بالکل سادہ سا ہے۔ اسے خوش آمدید کہنا چاہئے۔ سیاست ملکی ہو خواہ بین الاقوامی، اس میں توازن کی بہت بڑی اہمیت ہے۔ جب کوئی ملک یا یہ پوری دنیا کسی ایک عالمی طاقت کے زیر اثر ہو تو اس کے نقصانات شدید ہوتے ہیں۔ خدا کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ امریکہ کا دنیا کا واحد سپر طاقت ہونے کا دورانیہ بمشکل 25 برس ہی رہا۔
اب چین تیزی سے ترقی کرتا ہوا ایک بڑی عالمی طاقت کے طور پر ہمارے سامنے ہے۔ اگلے پانچ دس سالوں میں یہ امریکہ سے بھی آگے نکلتا نظر آرہا ہے۔ اس کا ایک سپر طاقت کے طور پر ابھرنا توازن کے لئے ناگزیر ہے۔ آگ کے لئے پانی کاڈر بنے رہنا ضروری ہے۔ سو ہمارے اس خطے میں بالادستی بلا شبہ اس خطے کی طاقتوں کی ہی ہونی چاہئے لیکن توازن کے لئے امریکہ کا بھی یہاں موجود رہنا ضروری ہے۔ تاکہ کوئی ایک طاقت حاوی ہوکر من مانی نہ کرسکے۔ امریکہ کے حاوی ہونے اور من مانیاں کرنے کے نتائج ہم صرف دیکھ ہی نہیں بلکہ بھگت بھی چکے۔
بیس سال تک امریکہ افغانستان کا قابض مالک بنا رہا تھا۔ لیکن اب جب وہ واپس آئے گا تو اس ملک میں اس کی حیثیت کسی آقا یا مالک کی نہیں بلکہ دیگر ممالک کی طرح ایک ملک کی ہوگی۔ اور وہ بھی ایسے ملک کی جسے یہ چیلنج درپیش ہوگا کہ افغان قوم کے زخموں پر مرہم رکھ کر اپنے کرتوتوں کی تلافی کرے۔سو اسے پخیر راغلے ہی کہنا چاہئے !۔