صمود فلوٹیلا پر حملہ اور عالمی برادری کی تشویش

تازہ ترین

تازہ ترین

غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کی امداد کیلئے دنیا بھر سے امدادی سامان لے کر جانے والے صمود فلوٹیلا کے کارکنان کو اسرائیل کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کی شدید مذمت کی جا رہی ہے اور پاکستان نے بھی اس واقعے پر سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب غزہ پہلے ہی ایک دہائیوں پر محیط محاصرے، مسلسل بمباری اور انسانی بحران کی بدترین شکل سے گزر رہا ہے۔

غزہ جہاں تقریباً 22 لاکھ  افراد آباد ہیں جن میں اکثریت بے گھر ہو چکی ہے،  طویل عرصے سے اسرائیلی ظلم و ستم کا شکار ہے، جس کے باعث خوراک، صاف پانی، ادویات اور ایندھن کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ بین الاقوامی مبصرین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس محاصرے کو اجتماعی سزا قرار دیتی ہیں، جبکہ اسرائیل اس کو سیکیورٹی ضرورت قرار دیتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فورسز نے صمود فلوٹیلا کے امدادی کارکنان کو نہ صرف حراست میں لیا بلکہ ان پر مبینہ طور پر نفسیاتی اور جسمانی تشدد بھی کیا گیا۔ بعض رپورٹس کے مطابق انہیں بجلی کے جھٹکے دیے گئے، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد کو پسلیوں کی چوٹیں آئیں اور سانس لینے میں مشکلات پیدا ہوئیں اور بات یہیں ختم نہیں ہوجاتی بلکہ اسرائیلی وزیر بن گویر نے سوشل میڈیا پر ویڈیو  اپ لوڈ کی جس میں دکھایا گیا ہے کہ فلوٹیلا کارکنان کو پیچھے ہاتھ باندھ کر گھٹنوں کے بل جھکنے اور پیشانی زمین پر رکھنے پر مجبور کیا گیا اور اسرائیلی وزیر کو کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ یہ دہشت گردوں کا ساتھ دینے کا نتیجہ ہے۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے روحِ رواں فیصل ایدھی کے صاحبزادے سعد ایدھی بھی انہی زیرِ حراست کارکنان میں شامل ہیں، جس نے اس معاملے کو پاکستان میں مزید حساس اور نمایاں بنا دیا ہے۔یہ بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ اسرائیلی فوج نے 44 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے رضاکاروں پر مشتمل فلوٹیلا پر حملے کے دوران آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال کیا۔ یہ امدادی قافلہ غزہ کے متاثرہ شہریوں کے لیے خوراک اور بنیادی ضروریات  کی اشیاء لے کر جا رہا  تھا جب اسے بین الاقوامی پانیوں میں روکا گیا۔اسی تناظر میں یہ احساس مزید شدت اختیار کرتا ہے کہ صمود فلوٹیلا کے خلاف کی جانے والی کارروائی کا مقصد صرف انسانی امداد کو روکنا نہیں تھا بلکہ غزہ میں جاری انسانی بحران کی صورتحال کو عالمی سطح پر اجاگر ہونے سے بھی روکنا تھا۔

بین الاقوامی سطح پر اس واقعے نے شدید ردعمل کو جنم دیا ہے لیکن اسرائیلی لابی سے مغلوب   امریکا نے اس فلوٹیلا سے منسلک 4  کارکنان پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ نے الزام عائد کیا کہ یہ فلوٹیلا مبینہ طور پر حماس کی حمایت میں غزہ پہنچنے کیلئے تیار تھا، تاہم اس الزام کے حق میں کوئی واضح اور عوامی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ ان پابندیوں کے نتیجے میں متعلقہ افراد کے اثاثے منجمد کیے جا سکتے ہیں، اور عالمی مالیاتی نظام میں ان کی رسائی محدود ہو سکتی ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اسی امریکی اقدام نے عالمی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا انسانی امداد کو سیاسی و عسکری بیانیے سے جوڑ کر اس کی قانونی حیثیت کو متاثر کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا مؤقف ہے کہ اس طرح کے اقدامات امدادی سرگرمیوں کو جرم کے زمرے میں لانے کے مترادف ہیں۔ غزہ میں جاری صورتحال پہلے ہی انتہائی سنگین ہے۔ اکتوبر 2023 سے جاری جنگ میں اب تک 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ، جبکہ گزشتہ سال اعلان کردہ جنگ بندی کے بعد بھی 800 سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ یہ اعداد و شمار غزہ کے محکمہ صحت کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں۔

فلوٹیلا کے حامی کارکنان کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد کسی سیاسی گروہ کی حمایت نہیں بلکہ صرف انسانی امداد کی ترسیل اور محاصرے کی حقیقت کو دنیا کے سامنے لانا ہے جبکہ اسرائیلی اقدامات اور امریکی پابندیاں مل کر اس بیانیے کو دبانے کی کوشش ہیں۔ گلوبل صمود فلوٹیلا کی اسٹیئرنگ کمیٹی کی ایک رکن  نے عالمی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ان کے خلاف عائد کیے گئے الزامات دراصل ایک پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہیں، جس کا مقصد انسانی مشن کو بدنام کرنا ہے۔ ان کے مطابق یہ پابندیاں صرف چند افراد کے خلاف نہیں بلکہ پوری تحریک کو دبانے کی کوشش ہیں۔

اسی طرح لینڈ ورکرز الائنس کی پالیسی کوآرڈینیٹر جیوتی  فرنینڈس نے بھی امریکی اقدام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومتیں انسانی امداد کو تحفظ دینے کے بجائے اسے جرم ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جبکہ  یہ صورتحال بین الاقوامی انسانی قوانین کے اصولوں سے متصادم ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ نے مزید دعویٰ کیا کہ فلوٹیلا کی تنظیم پاپولر کانفرنس فار فلسطینی  ابروڈ (پی سی بی اے) سے منسلک ہے اور اسے مبینہ طور پر حماس کی مالی معاونت حاصل ہے، تاہم اس دعوے کی کوئی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آ سکی۔ دوسری جانب اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات اس کی قومی سلامتی کے لیے ضروری ہیں، تاہم  بین الاقوامی پانیوں میں انسانی امدادی جہازوں کو روکنا اور ان پر حملے کرنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ فلوٹیلا مشنز کو نشانہ بنایا گیا ہو۔ 2010 میں ترک جہاز مافی مرمرا پر اسرائیلی کارروائی میں 10 کارکنان ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا، اس کے بعد بھی مختلف ادوار میں فلوٹیلا مشنز کو روکا جاتا رہا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر کئی ممالک نے حالیہ کارروائی کی مذمت کی ہے جن میں ترکیہ، اسپین، اردن، پاکستان، بنگلہ دیش، برازیل، انڈونیشیا، کولمبیا اور لیبیا شامل ہیں۔ فلسطینی وزارت خارجہ نے اس کارروائی کو “بحری قزاقی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام غزہ میں جاری مبینہ نسل کشی اور بھوک کے بحران کو چھپانے کی کوشش ہے۔آئرلینڈ کے رکن پارلیمنٹ پال مرفی نے امریکی پابندیوں کو “امریکی طاقت کے ذریعے اسرائیلی پالیسی کی پشت پناہی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ  یہ انتہائی تشویشناک ہے کہ انسانی امداد کو دہشت گردی سےمنسلک کیا  جا رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے اور دیگر بین الاقوامی مبصرین بھی اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ کچھ رپورٹس کے مطابق فلوٹیلا کے بعض کارکنان تاحال لاپتہ ہیں اور ان کے اہل خانہ کو ان کی حالت کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔ اس پورے تناظر میں یہ سوال مزید شدت اختیار کر گیا ہے کہ کیا انسانی امداد کو سیاسی تنازعات کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے؟ اور کیا عالمی نظام میں طاقتور ریاستیں انسانی حقوق کے اصولوں کو اپنی پالیسیوں کے مطابق ڈھال رہی ہیں؟

غزہ کی صورتحال، فلوٹیلا مشنز اور ان پر ہونے والے ردعمل نے ایک بار پھر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ہے۔ یہ بحران صرف ایک خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور اخلاقی ذمہ داریوں کا امتحان بن چکا ہے۔ضروری ہے کہ عالمی برادری کھل کر اسرائیلی اقدام کی مذمت کرے، یہ معاملہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اٹھایا جائے اور اسرائیل پر دباؤ ڈالا جائے ، کیونکہ  اکیسویں صدی میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اندھیر نگری جیسا اصول تادیر نہیں چل سکتا اور ظلم کی سیاہ رات کو ایک نہ ایک روز ختم ہونا ہی ہوگا۔

Related Posts