موجودہ عالمی منظرنامے میں جہاں مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید جغرافیائی، سیاسی اور عسکری کشیدگی کے دہانے پر کھڑا دکھائی دیتا ہے، وہاں امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازعہ کوئی دوطرفہ اختلاف نہیں رہا بلکہ یہ ایک کثیر الجہتی بحران میں تبدیل ہو چکا ہے جس میں علاقائی طاقتیں، عالمی معیشت، توانائی کی منڈیاں اور بڑی سفارتی طاقتیں سب کسی نہ کسی سطح پر متاثر ہو رہی ہیں۔
ایران جنگ کے پس منظر میں پاکستان کا کردار ایک ایسے “قابلِ بھروسہ ثالث” کے طور پر نمایاں ہو کر سامنے آ رہا ہے جس پر فریقین کافی اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں، اور یہی امر اسے عالمی سطح پر ایک ابھرتی ہوئی مڈل پاور کے طور پر بھی پیش کر رہا ہے جو پیچیدہ تنازعات میں توازن پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ایران اور امریکا کو جنگ کے خاتمے کیلئے دوسرے فریق تک جو بھی تجاویز پہنچانی ہوں، صرف پاکستان کے توسط سے پہنچائی جاتی ہیں، جومملکتِ خداداد کی اہمیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
حالیہ پیش رفت کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کی کوششیں ایک بار پھر تعطل کا شکار دکھائی دیتی ہیں، کیونکہ دونوں فریق ایک دوسرے پر غیر حقیقت پسندانہ اور ناقابلِ قبول مطالبات عائد کرنے کا الزام لگا رہے ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے ، جس سے نہ صرف خطے کی سلامتی غیر یقینی بن گئی بلکہ عالمی معیشت پر بھی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
ایران جنگ جو اب 73ویں روز میں داخل ہوچکی، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے ایران پر دباؤ ڈالا جارہا ہے جبکہ ایران اپنی پوزیشن پر قائم رہتے ہوئے مزاحمتی حکمتِ عملی اختیار کیے ہوئے ہے، اور اسی تناظر میں صدر ٹرمپ نے ایران کی تازہ امن تجویز کو بغیر کسی واضح وجہ کے “مکمل طور پر ناقابلِ قبول” قرار دیا، جبکہ ایرانی ریاستی میڈیا نے امریکی منصوبے کو ایران کی خودمختاری پر سمجھوتے کے مترادف قرار دیا، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دونوں فریق ابھی تک کسی مشترکہ نکتۂ آغاز پر متفق نہیں ہو سکے۔
اس کشیدگی کے معاشی اثرات بھی فوری طور پر ظاہر ہوئے ہیں، کیونکہ خام تیل کی آسمان سے باتیں کرتی ہوئی قیمتیں اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ آبنائے ہرمز کی بندش یا محدود ٹریفک عالمی سپلائی چین کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ، کیونکہ اس آبی راستے سے ٹینکرز کو اپنی شناخت چھپانے کے لیے ٹریکرز تک بند کرنے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔
اسی دوران خطے کے دیگر ممالک بھی اس بحران کے اثرات سے براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں، جہاں یو اے ای نے ایران سے آنے والے دو ڈرونز کو روکا، قطر نے اپنی فضائی حدود میں ایک کارگو جہاز پر ڈرون حملے کی مذمت کی، اور کویت نے بھی اپنی فضائی دفاعی نظام کو فعال کرتے ہوئے دشمن ڈرونز کو ناکام بنایا، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ تنازعہ اب صرف دو ریاستوں تک محدود نہیں رہا بلکہ پورے خلیجی خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔
ادھر یورپی سطح پر بھی سفارتی سرگرمیاں تیز ہیں جہاں یورپین یونین کے وزرائے خارجہ برسلز میں جنگ اور امن دونوں صورتحال پر غور کر رہے ہیں، جبکہ امریکہ کے اندر بھی سیاسی دباؤ بڑھ رہا ہے کیونکہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق یہ جنگ امریکی ووٹرز میں غیر مقبول ہو رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب آئندہ انتخابات کے نتیجے میں کانگریس کا کنٹرول تبدیل ہو سکتا ہے، اور اس صورتحال نے واشنگٹن کی داخلی سیاست کو بھی پیچیدہ بنا دیا ہے۔
اسی دوران ایک اور اہم سفارتی پیش رفت یہ ہے کہ امریکی قیادت اور چین کے صدر کے درمیان ملاقات کی تیاری ہو رہی ہے جہاں ایران تنازعہ بھی ایجنڈے کا حصہ ہوگا، اور یہ بات اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ اب یہ بحران صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے توازن کا مسئلہ بن چکا ہے، جبکہ چین اور روس جیسے ممالک کسی ممکنہ معاہدے کے ضامن کے طور پر بھی زیرِ غور آ رہے ہیں، جیسا کہ ایران کے سفارتی حلقوں نے بھی اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ بڑی طاقتوں کی ضمانتوں کے بغیر کسی معاہدے کی پاسداری مشکل ہو گی۔
اس پورے منظرنامے میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے، کیونکہ پاکستانی قیادت، بالخصوص عسکری اور سفارتی سطح پر، بارہا اس بات کی نشاندہی کر چکی ہے کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے، اور اسی تناظر میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ایک اہم خطاب میں یہ اشارہ دیا گیا تھا کہ پاکستان کے دوست ممالک کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، عالمی ساکھ بہتر ہو رہی ہے، اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کو اعتماد کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ امریکہ اور ایران دونوں کسی نہ کسی سطح پر اسلام آباد کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ ممکنہ سفارتی راستہ تلاش کیا جا سکے۔
تاہم یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ایران اپنی تاریخی پالیسی کے مطابق بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے مزاحمتی حکمتِ عملی پر قائم ہے، جبکہ امریکا عمومی طور پر پہلے دباؤ بڑھا کر پھر مذاکرات کی طرف آتا ہے، اور یہی تضاد اس بحران کو مزید پیچیدہ بناتا ہے، کیونکہ ایک طرف امریکی سیاسی اور انتخابی دباؤ ہے جبکہ دوسری طرف ایرانی خودمختاری اور سیکیورٹی خدشات ہیں اور اسی دوران اسرائیلی عسکری کارروائیاں بھی لبنان اور سرحدی علاقوں میں جاری ہیں جہاں فضائی حملوں اور جھڑپوں نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، اور اس پورے خطے میں انسانی جانوں کا نقصان بھی بڑھ رہا ہے جبکہ ابتدا میں یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ یہ تنازعہ مختصر مدت میں کسی نہ کسی معاہدے تک پہنچ جائے گا، لیکن زمینی حقائق یہ بتا رہے ہیں کہ اگر مذاکرات ناکام رہے تو یہ بحران طویل مدت تک جاری رہ سکتا ہے، اگرچہ اب بھی سفارتی حل کے امکانات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے اور نسبتاً زیادہ روشن دکھائی دیتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں