معرکۂ حق :عسکری برتری سے سفارتی وقار تک

تازہ ترین

تازہ ترین

معرکہ حق کے ایک سال کی تکمیل ملک کی عسکری تاریخ میں وہ اہم سنگ میل ہے جب پاکستان کی فتح اور بھارت کی شکست کی گواہی دنیا دیتی نظر آتی ہے اور یہ وہ اہم ترین مقام ہے جب محدود پیمانے کی جنگ نے دشمن پر پاک فوج کی دھاک بٹھا دی اور تاریخ عالم میں ملک کی درخشاں تاریخ اور قومی وقار کا اہم باب رقم ہوا۔

عسکری ماہرین بھی اس حقیقت کا ادراک رکھتے اور اعتراف کرتے ہیں کہ جدید جنگیں صرف ہتھیاروں کی تعداد سے نہیں بلکہ حکمتِ عملی، انٹیلی جنس برتری، فوری ردِعمل اور قومی یکجہتی سے جیتی جاتی ہیں، اور یہی عناصر اس معرکے میں پاکستان کی سب سے بڑی طاقت بن کر سامنے آئے۔

یہ معرکہ حق میں کامیابی ہی کا ثمر ہے کہ آج اقوامِ عالم میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کی اڑان ایک نئے اسٹیج پر ہے اور دنیا پاکستان سے تعلقات بنانے اور انہیں فروغ دینے کو اپنا فخر سمجھتی ہے اور ایسے میں پاکستان ایران امریکا جنگ جیسے عالمی معیشت کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کرنے والے تنازعے کے حل کیلئے ثالثی جیسے مشکل ترین سفارتی کام کو سرانجام دیتا نظر آتا ہے اور اسی قابل فخر اقدام کا نتیجہ یہ ہے کہ آئندہ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے اکابرین اسلام آباد میں ایک بار پھر جنگ بندی مذاکرات کیلئے آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔ عالمی سفارتی حلقوں میں پاکستان کے اس کردار کو ایک ذمہ دار اور متوازن ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو نہ صرف خطے میں امن کی خواہاں ہے بلکہ بین الاقوامی تنازعات میں بھی اعتماد کے ساتھ مصالحت کار کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

پہلگام میں جب دہشت گردی ہوئی تو بھارت نے پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ شروع کردیا کہ پاکستان نےدراندازی کی،اور ان کے سیاستدانوں نے پاکستان پر حملے کی دھمکیاں دیں جس پر پاکستان نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا اور بھارت کو واضح پیغا م دیا گیا کہ اگر ہمسایہ ملک نے ہم پر حملہ کیا تو ہمارا جواب کیا ہوگا اور جب پاکستان پر حملہ ہوا تو پاک فوج نے اس کا بھرپور جواب دیا۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پہلگام حملے میں 26 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جس کے بعد نئی دہلی نے سفارتی سطح پر پاکستان پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی اور سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے جیسے اقدامات بھی سامنے آئے، جس پر پاکستان نے بھی اپنا اصولی مؤقف اقوامِ عالم کے سامنے رکھ دیا۔

جب پاکستان پر حملہ ہوا اور بے گناہ لوگوں کو شہید کیا گیا، مسجد کو شہید کیا گیا، پاکستان نے ایک اور سلامتی کمیٹی اجلاس میں اعلان کیا کہ اب دشمن کو اس کے حملوں کاجواب دیا جائے گا اور پاکستان اپنے وقت اور اپنے انداز میں ان حملوں کا جواب ضرور دے گا۔ پھر پاکستان نے یہی کیا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ یہ اپنے سے5گنا زیادہ قوت کو کس طرح گھٹنوں کے بل جھکنے پر مجبور کردیا۔ پاکستان نے یہ بھی واضح کیا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کو جنگی اقدام سمجھا جائے گا۔ یہ معاہدہ 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی سے طے پایا تھا اور پاکستان کی تقریباً 80 فیصد زرعی ضروریات اسی آبی نظام سے وابستہ ہیں، اس لیے اس معاہدے کی معطلی صرف سفارتی نہیں بلکہ معاشی اور انسانی سلامتی کا بھی ایک سنگین مسئلہ تصور کی جا رہی ہے۔

عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق معرکہ حق میں محدود وسائل کے باوجود پاکستانی افواج کی مربوط جوابی حکمتِ عملی، دفاعی تیاری اور تیز رفتار فیصلہ سازی نے طاقت کے روایتی توازن کے تصور کو چیلنج کر دیا۔ہونا تو یہ چاہئے کہ معرکہ حق کے نتیجے میں پاکستان کی قدرومنزلت میں جتنا اضافہ ہوا، اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب بڑھے اور کشمیر کے حوالے سے سلامتی کونسل میں جو قراردادیں منظور ہوئی ہیں انہیں اقوام متحدہ قونین کے چیپٹر 7 کے تحت کروائے جن پر عملدرآمد اقوامِ متحدہ کی ذمہ داری قرار دی جاتی ہے۔ ماہرینِ بین الاقوامی قانون کے مطابق اگر پاکستان موجودہ سفارتی فضا کو مؤثر انداز میں استعمال کرے تو مسئلہ کشمیر کو ایک بار پھر عالمی ایجنڈے پر نمایاں کرنے کا موقع حاصل ہو سکتا ہے۔

بھارت کا دفاعی بجٹ پاکستان کے مقابلے میں8 سے 10گنا زیادہ جبکہ دشمن کی عسکری افرادی قوت ہمارےمقابلے میں 2 گنا زیادہ ہے لیکن معرکہ حق نے ثابت کیا کہ اگر عزم و ہمت جوان ہو، جوانوں کے حوصلے بلند، ان کے خو ن میں گرمی ، اور قوم کی ماؤں، بہنوں او ربیٹیوں کی دعائیں فوج کے ہر جوان کے سر پر سایہ کیے ہوئے ہوں تو بھارت جیسے کسی بھی کم ظرف دشمن کی عددی برتری یا عسکری قوت کی کوئی حیثیت نہیں ہوا کرتی۔ ۔ یہی وہ جذبہ ہے جو قوموں کو تاریخ کے نازک ترین لمحات میں شکست سے نکال کر فتح کی بلند چوٹیوں تک پہنچاتا ہے۔

درحقیقت معرکہ حق کی زبردست تاریخی کامیابی کو صرف ایک عسکری فتح کے طور پر یاد کرلینا کافی نہیں بلکہ اسے قومی بیداری، داخلی استحکام اورمستقبل کی قومی حکمتِ عملی کی بنیاد بنانا ہوگا۔ پاکستان کو چاہیے کہ اس کامیابی کو سفارتی محاذ پر مسئلہ کشمیر کو مزید مؤثر انداز میں اجاگر کرنے، دفاعی خود انحصاری کو مضبوط بنانے، قومی اتحاد کو فروغ دینے اور نئی نسل میں حب الوطنی، قربانی اور ذمہ داری کے جذبے کو بیدار کرنے کے لیے استعمال کرے۔ قوم کو بھی اس دن کو محض جشن، ریلیوں اور پرچم کشائی تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ شہداء اور غازیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے یہ عہد دہرانا چاہیے کہ ملکی سلامتی، استحکام اور ترقی کے لیے ہر میدان میں اپنا کردار ادا کرے گی۔ معرکۂ حق کا اصل جشن یہی ہوگا کہ پاکستان ایک مضبوط، متحد، باوقار اور خوداعتماد ریاست کے طور پر دنیا میں اپنی جگہ مزید مستحکم کرے تاکہ اقوامِ عالم سبز ہلالی پرچم سے والہانہ محبت کرنے والی اس قوم کو ہر لحظہ عزم و استقلال، جوش و جذبے اور بلند حوصلوں کے ساتھ قومی عظمت، وقار اور سربلندی کی نئی منازل طے کرنے والی ایک زندہ اور باہمت قوم کے طور پر یاد رکھیں۔

Related Posts