ایران امریکا جنگ بلاشبہ عالمی سطح پر دور حاضر کا سب سے پیچیدہ اور مشکل ترین مسئلہ ہے جو پاکستان کی ثالثی سے ایک پائیدار حل کی جانب گامزن ہے اور جیسا کہ رپورٹس سامنے آرہی ہیں کہ جلد ہی دونوں ممالک کے مابین جنگ بندی کا معاہدہ طے پاجائے گا جو بہت بڑی خوشخبری ہے کیونکہ پاکستان کی تمام تر کاوشیں، اقدامات، دعائیں اور نیک تمنائیں رنگ لائیں جس کیلئے پاکستان عالمی فورمز پر دوست ممالک کو ساتھ لے کر آگے بڑھ رہا ہے۔
جنگ بندی کے حوالے سے اہم اعلان کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پیغام دیا کہ ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے معاہدے کو بڑی حد تک طے کرلیا گیا ہے۔ انہوں نے اسے امن سے متعلق مفاہمتی یادداشت قرار دیا اور کہا کہ اس کے تمام حتمی پہلو اور تفصیلات ابھی زیر بحث ہیں اور جلد اعلان کیا جائے گا، جبکہ یہ پیشرفت اسرائیل اور اہم علاقائی اتحادیوں کے ساتھ بات چیت کے بعد ممکن ہوئی۔
ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے بھی صدر ٹرمپ کی تائید کرتے ہوئے اعلان کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور بہت جلدہوگا جبکہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے بقول ایران اور امریکا کے مابین بامعنی پیش رفت ہوئی جو ایک مثبت اور پائیدار نتیجے کی امید فراہم کرتی ہے۔
ایران جنگ کے حوالے سے ر آج کی نویدیہ ہے کہ 4 نکاتی ایم او یو پر دستخط ہونے والے ہیں اور تاسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق تجویز کردہ ایم او یو میں یہ بھی شامل ہے کہ آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی 30 دنوں کے اندر مکمل طور پر ختم کی جائے اور پہلے مرحلے میں ایران کے منجمد فنڈز کا کم از کم ایک حصہ جاری کیا جائے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھارت کے دورے کے دوران بھی کہا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال پر نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم انہوں نے ایران پر دنیا بھر میں دہشت گردی کی سرپرستی کا الزام بھی دہراتے ہوئے کہا کہ تہران کو جوہری ہتھیار ہرگز نہیں بنانے دیں گے۔
ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کیلئے فریم ورک تشکیل دے دیا ہے جو اقوام متحدہ چارٹر کے آرٹیکل 24 کے تحت ایک قانونی اقدام ہے کیونکہ یہ آرٹیکل اس ضمن میں واضح ہے کہ اگر کسی ملک کی سمندری حدود سے کوئی آبنائے گزرتی ہو تو وہ ملک ایک فریم ورک تشکیل دینے کا مجاز ہے جبکہ مجوزہ ایم او یو کا چوتھا اور آخری نکتہ یہ ہے کہ ایران کے اطراف و جوانب سے امریکی فوج کو واپس بلایا جائے۔
اس سے قبل جب اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے مابین 21 گھنٹوں پر محیط جنگ بندی مذاکرات ہوئے تو ایران کی جانب سے 70 افراد پر مشتمل ٹیکنیکل ٹیم پاکستان پہنچی تھی جس کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کی جبکہ دوسری جانب امریکا کی طرف سے 120 سے زائد افراد پر مشتمل ٹیکنیکل ٹیم نے مذاکرات میں حصہ لیا اور ان مذاکرات کی طوالت اور دونوں اطراف سے نمائندوں کی تعداد ہی اس بات کی گواہ ہے کہ یہ مسئلہ کتنا پیچیدہ اور کثیر جہتی اہمیت کا حامل ہے۔
بے شک ایرا ن اور امریکا کے مابین مذاکراتی عمل اب بھی طویل ہوسکتا ہے جس کیلئے ابتدائی طور پر 30 روز کی مدت رکھی جائے گی جبکہ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی یہ توقع ظاہر کرچکے ہیں کہ ابتدائی فریم ورک مکمل ہونے کے بعد 30 سے 60 دنوں کے اندر حتمی معاہدے کی تفصیلات طے کی جاسکتی ہیں۔
یہا ں ایک بار پھر یہ حقیقت بیان کرنا ضروری ہے کہ 30 روز میں بھی دونوں ممالک کے مابین ثالثی کوئی آسان کام نہیں ہے کیونکہ یورینیم کی افزودگی کو ایران جنگ بندی کی راہ میں حائل سب سے بڑا مسئلہ اس لیے بنالیا گیا ہے کیونکہ ایران اسے اپنی قومی سلامتی کیلئے خطرہ سمجھتا ہے اور خلیجی ممالک کی بھی یہی خواہش ہے کہ ایران کو جوہری قوت نہیں بننا چاہئے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی واضح کیا کہ امریکا کے ساتھ کسی معاہدے کا فیصلہ سپریم لیڈر مجتبی ٰ خامنہ ای کی اجازت کے بغیر نہیں کیا جائے گا، جو اس عمل میں موجود داخلی پیچیدگیوں کو ظاہر کرتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے یورینیم افزودگی پر اربوں ڈالرز خرچ کیے ہیں جو وہ دیگر ممالک کے حوالے نہیں کرنا چاہتا، اسی لیے دونوں جانب سے تکنیکی ٹیمیں جنگ بندی مذاکرات کا ایک بار پھر حصہ بنیں گی تاکہ اس کا کوئی فریم ورک تشکیل دیا جاسکے، جبکہ ایرانی نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایران جنگ بندی کے معاہدے میں آبنائے ہرمز کا کنٹرول ایران کے پاس ہی رہے گا ، جس پر صدر ٹرمپ کے بیانات حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے، تاہم بعض مبصرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ ایران امریکا ایم او یو کو ابھی فتح قرار دینا قبل از وقت ہوگا کیونکہ تہران کی جانب سے امریکا کے حوالے سے بداعتمادی کی فضا اب بھی موجود ہے۔
علاقائی سطح پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے سیکیورٹی کابینہ کا اجلاس بلانے کی اطلاعات سے ظاہر ہے کہ اسرائیل اس پورے عمل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور دوسری جانب حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا پیغام ملا جس میں پاکستانی ثالثوں کے ذریعے پیش کردہ تجویز میں لبنان کو بھی وسیع تر جنگ بندی میں شامل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ لبنان کی وزارت صحت کے مطابق 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 3 ہزار 123 افراد جاں بحق ہوگئے اور غزہ میں بھی رات گئے ایک ہوائی حملے میں ایک سالہ بچے سمیت ایک فلسطینی خاندان کے تین افراد شہید ہوگئے۔
ضروری ہے کہ امریکا ایران جنگ کو طول دینے سے بچتے ہوئے مستقل جنگ بندی کا کوئی راستہ نکالا جائے تاکہ آبنائے ہرمز کی بندش سے متاثرہ عالمی معیشت کے دکھوں کا مداوا اور انسانی تعمیر و ترقی کے نئے باب کا آغاز ہوسکے۔ پاکستان نے ثابت کردیا ہے کہ خلوص نیت، سفارتی بصیرت اور پرامن کردار سے دنیا کے پیچیدہ ترین تنازعات بھی حل ہوسکتے ہیں ، یہی وہ سفارتی کامیابی ہے جو پاکستان پوری دنیا کے سامنے رکھے گا اور جس پر آج پوری دنیا سکھ کا سانس لے سکتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں