ایران امریکا ثالثی کیلئے پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار

تازہ ترین

تازہ ترین

ایران اور امریکہ کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ جنگی خطرات کے بادلوں کو کم کرنے اور جنگ کے بھڑکتے ہوئے شعلوں کو بجھانےکیلئے پاکستان ایک کلیدی ثالث طور پر ابھرا ہے، جہاں وہ اپنی سفارتی بصیرت کو بروئے کار لاتے ہوئے دونوں فریقین کے مطالبات میں توازن اور ہم آہنگی پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔

ایران کے ریاستی ذرائع ابلاغ نے تصدیق کی ہے کہ تہران کی وزارتِ خارجہ امریکہ کی جانب سے پاکستان کے ذریعے موصول ہونے والے جواب کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے۔ یہ جواب ایران کی اس تازہ ترین تجویز کے حوالے سے ہے جس کا مقصد جاری کشیدگی کو کم کرنا اور ممکنہ جنگی خطرات کو مذاکرات کے ذریعے ختم کرنا ہے۔ اس پیش رفت کو خطے میں ایک اہم سفارتی موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ دونوں فریقین پہلی مرتبہ ایک ثالثی چینل کے ذریعے براہِ راست پیغام رسانی کے نسبتاً قریب پہنچتے دکھائی دیتے ہیں۔

اسی سفارتی عمل کے دوران ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے نے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر جلد تہران کا دورہ کر سکتے ہیں جو خطے میں جاری کشیدگی کے دوران ان کا دوسرا دورہ ہوگا۔ یہ دورہ پاکستان کی اس مسلسل کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو کم کرنا ہے۔ اس دورے کو عسکری اور سفارتی دونوں سطحوں پر نہایت اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

بلاشبہ یہ پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں اور چین جیسے قریبی دوست ممالک کے ساتھ مشاورت کا ہی نتیجہ ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر دو مرتبہ حملے کے حتمی ارادے کو مؤخر کیا گیا، جس کا اعتراف خود انہوں نے بھی کیا ہے، حالانکہ ایک وقت میں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ مذاکرات مکمل طور پر تعطل کا شکار ہو چکے ہیں اور دونوں ممالک اپنے سخت گیر موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اس موقع پر واضح کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ سفارتی حل کے تمام راستے ایران کی جانب سے اب بھی کھلے ہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ دباؤ یا دھمکیوں کے ذریعے ایران کو جھکانے کی کوششیں “محض ایک فریب” ہیں۔ ان کے بیان کو تہران کی موجودہ مذاکراتی حکمتِ عملی کا مرکزی نکتہ سمجھا جا رہا ہے، جس میں لچک اور سخت موقف دونوں کا امتزاج شامل ہے۔

اگرچہ اس تنازعے کا سب سے پیچیدہ اور بنیادی نکتہ یورینیم کی افزودگی کا پروگرام رہا ہے، جو ماضی میں جنگ کی ایک بڑی وجہ کے طور پر سامنے آیا تھا، تاہم حالیہ سفارتی سرگرمیوں اور پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی سمیت دیگر اعلیٰ حکام کے مسلسل رابطوں سے یہ امید پیدا ہوئی کہ دونوں اطراف سے لچک کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے، جس میں افزودہ مواد کی مقدار اور نگرانی کے دورانیے کو 20 سال سے کم کر کے 10 سال کرنے جیسی مختلف تجاویز زیرِ غور ہیں۔

دوسری جانب عالمی سطح پر توانائی کے بحران اور اقتصادی دباؤ، خاص طور پر آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات نے عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے کیونکہ عام آدمی مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے، اسی تناظر میں حج اور عید الاضحیٰ کے بعد اسلام آباد میں ایک اہم اجلاس کی توقع ہے جہاں 30 روزہ مصالحتی عمل کے دوران فریقین کے مابین مفاہمت کی یادداشت پر پیش رفت متوقع ہے تاکہ کشیدگی کو کم کر کے مذاکرات کی راہ ہموار کی جا سکے۔

داخلی طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی شدید سیاسی دباؤ اور اسرائیلی لابی کے اثر و رسوخ کا سامنا ہے، جہاں امریکی کانگریس اور سینٹ میں ان کی اپنی جماعت کے بعض ارکان کی جانب سے مخالفت اور آنے والے انتخابات کے نتائج کے خوف نے انہیں دفاعی پوزیشن پر لاکھڑا کیا ہے، کیونکہ اس تنازعے کا پرامن حل نہ ہونے کی صورت میں انہیں مواخذے اور پچیسویں ترمیم کے نفاذ جیسے سنگین سیاسی خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے عراق سے سخت مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے ہونے والے ڈرون حملوں کو فوری طور پر روکے۔ یہ مطالبہ اس واقعے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ایک اماراتی جوہری پلانٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اماراتی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ ایسے اقدامات پورے خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔

لبنان میں بھی صورتحال کشیدہ ہے جہاں وزارتِ صحت کے مطابق حالیہ اسرائیلی حملوں میں 20 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ جنگ بندی معاہدہ عملی طور پر غیر مؤثر دکھائی دیتا ہے۔اردن نے بھی اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ایک نامعلوم ڈرون کو مار گرایا ہے، جبکہ حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی افواج پر 24 حملے کیے ہیں۔

مذاکراتی عمل اور ثالثی کے عمل کے دوران خطے کے اہم ترین ملک کے طور پر چین کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیاجاسکتا جو انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جس کے ایران کے ساتھ 400 ارب ڈالر کے تزویراتی معاہدے اور پاکستان کے ساتھ دیرینہ 75 سالہ آزمودہ دوستی نے اس مصالحتی عمل کو مزید مستحکم کیا ہے، جبکہ پاکستان بھی بیجنگ کے ساتھ مسلسل مشاورت کے ذریعے اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو ثمر آور بنایا جا سکے۔

تاریخی طور پر چین نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور اقوامِ متحدہ جیسے فورمز پر پاکستان کے مفادات کے خلاف آنے والی قراردادوں کو ویٹو کیا ہے، اسی لیے موجودہ ایران جنگ اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں بھی چین کی شمولیت امن کے قیام کیلئے ناگزیر سمجھی جا رہی ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جنگ بندی کے اس دورانیے کا فائدہ اٹھاتے ہوئےایران اور امریکا دونوں نے اپنی عسکری و لاجسٹک صلاحیتوں کو دوبارہ منظم کیا ہے اور امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ تصادم میں امریکہ کو اپنے کئی طیاروں کا نقصان بھی اٹھانا پڑا تھا، تاہم ایران کی مزاحمت اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اس بات کی غماز ہے کہ طاقت کا توازن عالمی شمال سے عالمی جنوب کی جانب تیزی سے منتقل ہو رہا ہے، جس میں پاکستان کی مصالحتی کوششیں خطے کے نئے سیکیورٹی پیراڈائم کی تشکیل میں اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہیں۔

Related Posts