لاہور:جمعیت علمائے اسلام او رپاکستان ڈیمو کریٹک فرنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ حکمرانوں کو دسمبر دیکھنا نصیب نہیں ہوگا،حالات تبدیل ہو گئے ہیں،اب وہ ہم سے این ار او مانگ رہا ہے اور ہم نہیں دے رہے،ان ہاؤس تبدیلی نہیں ملک میں صاف اور شفاف نئے انتخابات ہونے چاہئیں۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش اور ترجیح ہے کہ پاکستان امن کا گہوارہ ہو، پاکستان ایسا ملک بن سکے جس میں عام آدمی اچھی زندگی گزار سکے،اس وقت پاکستان میں آئین کی حکمرانی نہیں ہے،حکمرانوں کی نالائقی اور نااہلی سے عام ادمی شدت قرب سے کراہ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی تحریک کا گوجرانوالہ سے آغاز ہو گیا اورعوام کی بڑی تعداد اس تحریک میں شریک ہوئی ہے،حکمرانوں کے گھر جانے پر ہی یہ تحریک ختم ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی اسٹیبلیشمنٹ کی حکمرانی کے لئے معرض وجود میں نہیں آیا۔
اپنی مرضی کی حکومتوں مسلط کی جاتی ہے اور اپنی مرضی کی قانون سازی کروائی جاتی ہے،جو بھی قوانین اس دور میں بنے ہیں وہ ایف اے ٹی اے ایف کی شرائط پر بنے ہیں،یہ اس پارلیمنٹ کی بالادستی کی نفی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نملک کی تمام سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر ہیں،کس جماعت کے کارکن زیادہ اور کس کے کم تھے ہم اس بحث میں نہیں پڑیں گے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان اور طاہر القادری کا دھرنا ایک منتخب پارلیمنٹ کے خلاف تھا اس لئے ناجائز تھا لیکن آج غیر منتخب پارلیمنٹ کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے،اس وقت جو صورتحال بن رہی ہے اس سے لگتا ہے کہ اس حکومت کو دسمبر نصیب نہیں ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ حالات تبدیل ہو گئے ہیں اب وہ ہم سے این ار او مانگ رہا ہے اور ہم نہیں دے رہے ہیں،ہم متفق ہے کہ پاکستان میں عام انتخابات ہونے چاہئیں اور دھاندلی کے بغیر ہونے چاہئیں،سیاسی عمل جتنا طاقتور ہو گا اتنی ہی ملک میں فرقہ واریت ختم ہوتی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ