سندھ حکومت نے کراچی کے اے ڈی پی فنڈ روک دیئے، شہر کے ترقیاتی کام متاثر

تازہ ترین

تازہ ترین

سندھ حکومت نے کراچی کے اے ڈی پی فنڈ روک دیئے، شہر کے ترقیاتی کام متاثر
سندھ حکومت نے کراچی کے اے ڈی پی فنڈ روک دیئے، شہر کے ترقیاتی کام متاثر

کراچی: شہر کو کھنڈرات میں تبدیل کرنے کی اصل وجہ سامنے آگئی، حکومت سندھ کی جانب سے بلدیہ عظمیٰ کراچی کو ڈسٹرکٹ اے ڈی پی فنڈکی مد میں ماہ ستمبر 2020 تک نہ ملنے والے فنڈزکی کل رقم 3325 ملین سے تجاوز کرگئی۔

سندھ کے دیگر اضلاع کے اے ڈی پی فنڈز جاری کر دیے گئے، تاہم کراچی کواے ڈی پی فنڈز کی عدم ادائیگی کے باعث ترقیاتی کام متاثر ہوئے، سندھ حکومت اصولی طور پر بلدیہ عظمیٰ کراچی کی مقروض نکلی،کے ایم سی کام کرنے والے ٹھیکیداروں کو ادائیگی نہ کر سکی۔

کنٹریکٹرز کا کہنا ہے کہ ہم اپنے پاس سے فنڈز ادا نہیں کرسکتے، اس وجہ سے کام بند ہیں اور ان کی تکمیل ممکن نہیں۔ شہر کی بیشتر ترقیاتی اسکیمیں ٹھیکیداروں کو عدم ادائیگی کے باعث کام بند ہونے سے رکی ہوئی ہیں اور ان کی لاگت میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے جس کا سارا بوجھ عوام کے ٹیکس سے جمع شدہ قومی خزانے پر پڑے گا۔

حکومت سندھ کی جانب سے بلدیہ عظمیٰ کراچی کو مالی سال برائے 2018-19کی چوتھی قسط اور بلاک ایلوکیشن میں منظور شدہ 850 ملین، مالی سال برائے 2019-20 میں نومبر 2019 میں 625 ملین کی صرف ایک قسط جاری ہوئی تھی۔

دوسری قسط کے ا حکامات تو جاری ہوئے لیکن رقم جاری نہیں ہوئی،واضح رہے کہ ”کرونا وائرس“کی وجہ سے سندھ کے تمام ترقیاتی فنڈز کے منجمند کئے جانے پر روک دئیے گئے تھے،اب جبکہ 2020-21 کا بجٹ شروع ہوئے چار ماہ گزر گئے ہیں۔اسکی پہلی قسط جو کہ 625 ملین ہے تاحال جاری نہیں ہوسکی۔ جسکی وجہ سے بلدیہ عظمیٰ کراچی کو شدید مالی بحران کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے۔

کنٹریکٹرز کے درخواست پر کراچی کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کی سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کا ایک اہم اجلاس ایسو سی ایشن کے چیئرمین ایس ایم نعیم کاظمی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ جس میں چند اہم فیصلے کئے گئے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کنٹر یکٹرز کے ان بلوں کی ادائیگیوں میں ضرورت سے زیادہ تاخیز پر پاکستان انجینئرنگ کونسل سے ان کنٹریکٹرز کی قانونی اور اخلاقی مدد کرنے پر بھی توجہ دلاتے ہو ئے کنٹریکٹرز کی مدد کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اس کے لئے جنرل سیکریٹری عبدالرحمن کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

Related Posts