جمعیت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی رہنما قاری محمد عثمان نے کہا ہے کہ تاریخ کی بدترین مہنگائی کے ڈسے ہوئے شہریوں پر کے الیکٹرک کی جانب سے ظالمانہ بلز کا ڈرون حملہ جان لیوا ثابت ہو رہا ہے۔
بے جا ٹیکسز کے نام پر عوام کو تختہ مشق بنانا شرمناک ہے۔ شہریوں کے ہاتھوں کے الیکٹرک ورکرز کو نشانہ بنایا جانا کسی بڑے خطرے سے کم نہیں۔ عام آدمی کو سول نافرمانی پر مجبور کیا جارہا ہے۔
مدارس و مساجد کے بلوں میں ٹی وی فیس اور ایڈجسٹمنٹ کے نام پر لاکھوں روپے کے ٹیکسز بے شرمی کی انتہا ہے۔ کے الیکٹرک انتظامیہ ہوش کے ناخن لے اور ظالمانہ ٹیکسز پر مشتمل بلز کا سلسلہ فوری بند کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:
عمران خان کا ایف آئی اے ٹیم کے سامنے ایک بار پھر سائفر گم ہونے کرنے کا اعتراف
اپنے بیان میں قاری محمد عثمان نے کہا کہ کے الیکٹرک انتظامیہ نہ جانے کس جرم کی سزا دیتے ہوئے شہریوں کو اذیت میں مبتلا کررہی ہے۔ اووربلنگ اور مختلف بے جا ٹیکسز لگاکر بجلی کے بل سے آئی ایم ایف کا شرائط نامہ بنادیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کے بلز میں فیول ایڈجسمنٹ، الیکٹریسٹی ڈیوٹی، ٹی وی فیس، کواٹرلی ایڈجسٹمنٹ، فنانس چارجنگ، ود ہولڈنگ ٹیکس اور ایکسٹرا چارجز کے نام پر عوام کو ذبح کرنے کی پالیسی سمجھ سے بالاتر ہے۔ عوام بجلی کے بل ادا کرے یا بل سے دوگنے بے سر و پا ٹیکسز ادا کرے؟
انہوں نے کہا کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ پورے ملک سے ٹیکس اکٹھے کرنا کے الیکٹرک کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ بجلی کے بل سے دوگنے اضافی اور بے جا ٹیکسز وصول کرنا کب سے کے الیکٹرک کی ذمہ داری بنا ہے؟
قاری محمد عثمان نے مزید کہاکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مدارس و مساجد کے بلز معاف کئے جاتے اور انہیں سہولت دی جاتی مگر ناجائز اووربلنگ کیساتھ ساتھ مساجد کے بلوں میں ٹی وی فیس اور ایڈجسٹمنٹ کے نام پر لاکھوں روپے کے ناجائز ٹیکس لگائے جارہے ہیں۔
قاری محمد عثمان نے خبردار کیا کہ مہنگائی اور بیروزگاری کی چکی میں پسی ہوئی عوام پر اگر بجلی کے بے تحاشا ٹیکسز پر مشتمل بلوں کے نام پر ظلم بند نہ کیا گیا تو صورتحال اداروں اور حکومت کے کنٹرول سے باہر ہوجائے گی۔
انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ اس معاملے پر فوری نوٹس لیتے ہوئے عوام کو واضح ریلیف فراہم کیا جائے وگرنہ بپھرے ہوئے عوام کا سمندر سب کچھ بہا لے جائے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








