اسلام آباد: سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن اور سول سوسائٹی نے خواتین اور بچوں پر تشدد اور قتل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔
احتجاج کرنے والوں نے کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے نور مقدم، قرۃ العین، صائمہ اور پھر نسیم بی بی اور اس کے چودہ ماہ کے بچے کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف تیز ترین تحقیقات کرکے ان کو کیفرکردار تک پہنچائے۔
ایم ایم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے امبر نگار کا کہنا تھا کہ سول سوسائٹی مطالبہ کرتی ہے کہ ملزمان کے ٹرائل تیزی سے کیے جانے چاہئیں اور جہاں پر قوانین میں ترمیم کی ضرورت ہے ان میں تبدیلی کی جائے، تاکہ معاشرے میں تشدد اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کو روکا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ معاشرے میں تشدد کے خاتمے کے لیے لوگوں کو تحفظ دینے اور فوری انصاف فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
کوثر عباس نے کہا کہ خواتین اور بچوں پر تشدد کے واقعات روز بروز بڑھتے چلے جارہے ہیں سول سوسائٹی حکومت میڈیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ لوگوں کے لیے آگاہی مہم کا آغاز کریں تاکہ معاشرے میں بڑھتے ہوئے خواتین اور بچوں پر تشدد کے واقعات پر قابو پایا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا اشد ضروری ہے جس معاشرے میں فلفور انصاف کی فراہمی نہ ہو اس معاشرے کی جڑیں کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔ نور مقدم، نسیم بی بی جیسے واقعات آئے روز بڑھتے چلے جارہے ہیں قانون کی عملداری کو فوری اور یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔
ماضی میں پاکستان میں خواتین اور بچوں پر تشدد اور ہراسگی کے واقعات کے حوالے سے سالانہ رپورٹ بھی شائع ہو چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2020 میں پاکستان میں 9401 خواتین پر تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے گھر یلو تشدد کے واقعات 1422 واقعات 15714 زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ 4321 واقعات غیرت کے نام پر قتل کئے 1118 واقعات، بچوں کے ساتھ زیادتی کے 1980 واقعات رپورٹ ہوئے۔
پاکستان میں تشدد کے واقعات میں پہلے سے تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے پاکستان میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات سے معاشرے میں انتہا پسندی چل رہی ہے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہئے کہ ان چیزوں کو سنجیدگی سے دیکھیں اور انصاف کی فراہمی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔